مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 986 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 986

مضامین بشیر ۹۸۶ اپنے گھروں میں ذکر الہی اور دعاؤں میں گزارتے رہے ہیں کیونکہ یہ وقت مخلص مومنوں کے لئے خدا کی خاص رحمتوں کے نزول کا وقت ہوتا ہے۔چنانچہ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ :- ما من يوم اكثر من ان يعتق الله فيه عبداً من النار من يوم عرفة یعنی عرفات کے دن سے بڑھ کر کوئی اور دن ایسا نہیں کہ جس میں خدا اپنے بندوں کو اس دن سے زیادہ آگ سے نجات عطا کرتا ہو۔“ پس حج کا دن دعاؤں کی قبولیت کا خاص دن ہے اور اگر اس سال رؤیت ہلال کے فرق کی وجہ سے یا ویسے ہی جج خلاف توقع جمعہ کے دن نہیں ہوا جب کہ اس دن میں دو بھاری برکتیں جمع ہو جاتیں ایک حج کی برکت اور دوسری جمعہ کی برکت مگر بہر حال حج حج ہی ہے خواہ وہ کسی دن آئے اور عرفات کا وقت بہر صورت عظیم الشان برکتوں سے معمور ہوتا ہے۔پس دوستوں کو چاہیے کہ آنے والے حج کے دن یعنی ۲۳ رستمبر بروز ہفتہ دن کے پچھلے حصہ میں خصوصیت کے ساتھ دعائیں کریں اور اس کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں کہ یہ دن سال میں صرف ایک دفعہ ہی آتا ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ اگلے سال اسے یہ دن دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں اور حق یہ ہے کہ حقیقی عید بھی اسی کی ہوتی ہے جو حج کے دن کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔دوستوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ عصر کے وقت کو ویسے بھی اسلام کے ساتھ خاص نسبت ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ دنیا کے موجودہ دور کے لحاظ سے مسلمانوں کی امت کو گو یا عصر کے وقت پیدا کیا گیا ہے جو موجودہ سات ہزار سالہ دور کا آخری حصہ ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: انما اجلكم في اجل من خلامن الامم ما بين صلواة العصر الى ۱۲۶ مغرب الشمس۔۔۔و الا لكم الاجر مرتين دو یعنی اے مسلمانو! ہمارا دور گزشتہ امتوں کے دوروں کے مقابل پر ایسا ہے کہ گویا عصر سے لے کر مغرب تک کا وقت لیکن تمہارا اجر خدا کی تقدیر میں دو ہرا رکھا گیا ہے۔“ اور قرآن شریف نے بھی اس لطیف مشابہت کی طرف اشارہ کیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: وَالْعَصْرِه اِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُيْرِ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ ۱۲۷ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ یعنی ہمیں قسم ہے دنیا کے موجودہ دور کے آخری حصہ کی جواب شروع ہو رہا ہے که آئنده مادیت کی ترقی اور دجالی فتنوں کے انتشار کی وجہ سے انسان اپنی ظاہری