مضامین بشیر (جلد 2) — Page 984
مضامین بشیر ۹۸۴ کے مختلف طبقات کے لئے مخصوص قرار دیا جائے اور آیت کا مفہوم یہ لیا جائے کہ جو عور تیں قولی نصیحت کے ذریعہ ماننے والی ہوں ان کے متعلق قولی نصیحت کا رستہ اختیار کیا جائے اور جو عورتیں عملی ناراضگی کے ذریعہ راہ راست پر لائی جا سکتی ہوں ان کی اصلاح عملی ناراضگی کے ذریعہ کی جائے اور جو عورتیں اپنی عادات اور روایات کی بناء پر صرف سزا سے ٹھیک ہو سکتی ہوں ان کے متعلق مقررہ شرائط کے ماتحت سزا کا طریق اختیار کیا جائے اور اس تشریح کے ماتحت بھی کوئی دانا شخص اس تعلیم پر اعتراض نہیں کر سکتا۔بالآخر یہ بات بھی ضرور یا در کھنے کے قابل ہے کہ قرآنی شریعت کے نزول کے وقت ہمارے آقا آنحضرت صلعم نے اور قرآنی شریعت کی عالمگیر اشاعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی اپنے اہل خانہ کو بدنی سزا نہیں دی۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان ارفع ہستیوں کی ازواج مبارکہ نے کبھی نشوز ہی نہیں کیا اس لئے ان کے تعلق میں سزا کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔میں کہتا ہوں بے شک یہ درست ہے مگر کیا ہم اور تم بھی ان بزرگوں کے نام لیوا نہیں ہیں جن کے حسن سلوک اور حسن تدبیر نے ان کے اہل خانہ پر نشوز کے تمام رستے بند کر کے ان کے گھر کو جنت کا نمونہ بنا دیا تھا؟ ولقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة يا اولی الالباب - مطبوعه الفضل ۷ ار ستمبر ۱۹۵۰ء)