مضامین بشیر (جلد 2) — Page 890
مضامین بشیر ۸۹۰ بہر حال رمضان کا آخری عشرہ ایک نہایت ہی مبارک عشرہ ہے اور دوستوں کو اس عشرہ میں اپنے آقا کی مبارک سنت کے مطابق شد مئزره و احیی لیله و ایقظ اهله کا کم از کم کچھ تو نمونہ پیش کرنا چاہئیے۔پھر جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے اس عشرہ میں ایک رات ایسی آتی ہے جو اس مخصوص عشرہ کی بھی جان اور گویا روح کی روح ہے۔اس رات کو اسلام میں لیلۃ القدر کا نام دیا گیا ہے جس کے تین معنی ہو سکتے ہیں۔یعنی (۱) عزت اور بڑائی کی رات جس میں انسان خدا کا قرب حاصل کرتا ہے (۲) قوت اور قدرت والی رات جو ہر گرے ہوئے شخص کو اوپر اٹھانے کی طاقت رکھتی ہے بشرطیکہ وہ خود اپاہج ہو کر نہ بیٹھ جائے اور (۳) وہ رات جس میں ہر شخص کی قدر اور پہنچ علیحدہ علیحدہ پہچانی جاتی ہے اور خدا کے فرشتے دیکھ لیتے ہیں کہ کون کس پانی میں ہے۔اس رات کو خدا کی ازلی حکمت نے ( جو مومنوں کو تکیہ کر کے بیٹھ جانے سے بچانا چاہتا ہے ) اخفا کے پردہ میں رکھا ہے۔البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدرضرور فرمایا ہے کہ لیلتہ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق رات میں تلاش کرو۔یعنی اکیسویں رات یا تئیسویں رات یا پچیسویں رات یا ستائیسویں رات یا انیسویں رات اور حدیث میں زیادہ امکان ستائیسویں رات کا بیان کیا گیا ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی حضرت ابی بن کعب نے ایک موقعہ پر قسم کھائی کہ لیلۃ القدر یہی ستائیسویں رات ہے ( صحیح مسلم ) ممکن ہے کہ یہ اس مخصوص سال کے متعلق ہو۔مگر بہر حال اتنا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر رمضان کی ستائیسویں رات جمعہ کی رات ہو تو وہ خدا کے فضل سے بالعموم لیلۃ القدر ہوتی ہے اور عقل بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جس رات میں تین برکتیں جمع ہو جائیں یعنی اول جمعہ کی برکت جو گو یا ہفتہ بھر کی نمازوں کی عید ہے اور دوسرے رمضان کی آخر یعشرہ کی طاق رات کی برکت اور تیسرے ستائیسویں کی برکت جس کی طرف حدیث میں اشارہ ملتا ہے تو بہر حال اتنا تو ظاہر ہے کہ اسے خدا کی مخصوص برکتوں سے خالی نہیں سمجھا جا سکتا۔گو پھر بھی کسی ایک رات پر تکیہ کر کے بیٹھ جانا ٹھیک نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ وہ کوئی دوسری رات ہو اور اس طرح انسان اصل لیلۃ القدر کی برکات سے محروم ہو جائے اور بہر حال جو شخص لیلتہ القدر کی تلاش میں زیادہ راتیں جاگے گا وہ لازماً زیادہ ثواب بھی پائے گا اور یہی اس کے اخفا کا راز ہے۔حدیث سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ رمضان کی انتیسویں رات بھی بڑی برکتوں والی رات ہوتی ہے چنانچہ جب ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی برکتوں اور بخششوں کا ذکر فرمایا تو بعض صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کیا یہی لیلۃ القدر ہے؟ آپ نے فرمایا میں یہ تو نہیں کہتا مگر