مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 891 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 891

۸۹۱ مضامین بشیر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ (چونکہ یہ رات بسا اوقات رمضان کی آخری رات ہوتی ہے اور بہر حال طاق راتوں میں وہ لازماً آخری رات ہوتی ہے ) اس لئے جس طرح ایک شفیق مالک اپنے مزدور کی مزدوری ختم ہوتے ہی فوراً اجرت دینے میں خوشی محسوس کرتا ہے اسی طرح ہمارا آسمانی آقا بھی انتیسویں رات کو اپنے بندوں کو بڑھ چڑھ کر اور نقد بنقد اجرت دینے کے لئے گویا بے قرار رہتا ہے۔(مسند احمد ) پس میں اپنے دوستوں سے عرض کروں گا کہ اس رات کی برکت کو بھی ضائع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ گو یا رمضان کا آخری تیر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی طریق تھا کہ آپ "رمضان کے مہینہ میں خاص طور پر زیادہ صدقہ وخیرات کیا کرتے تھے۔حتی کہ حدیث میں آتا ہے کہ اس مہینہ میں آپ کا ہاتھ صدقہ وخیرات میں اس طرح چلتا تھا کہ گویا وہ ایک تیز آندھی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی اور لازماً آپ کا یہ صدقہ و خیرات رمضان کے آخری عشرہ میں زیادہ ہو جاتا تھا۔چنانچہ عید کے قریب جو صدقۃ الفطر مقرر کیا گیا ہے اس میں بھی یہی حکمت ہے کہ ایک تو اس ذریعہ سے رمضان کے آخر میں رمضان کی کمزوریوں کا کفارہ ہو جائے اور دوسرے عید کے مخصوص موقعہ پر غریب بھائیوں کی امداد کا بھی ایک رستہ کھل جائے۔پس صاحب توفیق دوستوں کو رمضان میں صدقہ و خیرات کے پہلو کی طرف سے بھی ہرگز غافل نہیں رہنا چاہئیے اور فطرانہ تو بہر حال ہر ذ واستطاعت مسلمان پر فرض ہی ہے۔رمضان کے مہینہ کو دعاؤں اور ان کی قبولیت کے ساتھ بھی خاص تعلق ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے:۔۴۹ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَإِني قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ یعنی اے رسول جب میرے بندے تجھ سے رمضان کے مہینہ میں دعاؤں کے متعلق پوچھیں تو ان سے کہہ دو کہ میں اس مہینہ میں اپنے بندوں کے بہت قریب ہو 66 جاتا ہوں اور دعا کرنے والوں کی دعاؤں کو زیادہ سنتا اور زیادہ قبول کرتا ہوں۔“ پس نہایت ہی بد قسمت ہے وہ انسان جسے رمضان جیسا مبارک مہینہ میسر آئے اور وہ اس میں خدا سے دعائیں کر کے اپنے لئے اور اپنے خاندان اور اپنی قوم کے لئے برکات کا ذخیرہ نہ جمع کرلے اور دعاؤں کے لئے کوئی تخصیص نہیں کہ صرف دین کی دعائیں ہوں اور دنیا کی دعائیں نہ ہوں بلکہ حسب ضرورت اور حسب حالات ہر قسم کی دعائیں مانگی جاسکتی ہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی شخص کو دنیا کی کوئی ایسی اشد ضرورت در پیش ہے جو اس کی توجہ کو منتشر کر رہی ہے تو اسے چاہئیے کہ ضرور اس دنیوی ضرورت کے لئے دعا کرے ورنہ وہ اس شخص کے حکم میں آجائے گا جو پیشاب اور پاخانہ کی فوری اور شدید