مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 799 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 799

۷۹۹ مضامین بشیر بغیر یا صحیح طریق پر محنت کرنے کے بغیر محض دعا کرنے یا کرانے سے امید کرتے ہیں کہ ان کا کام ہو جائے گا حالانکہ خدا تعالیٰ کی باریک در بار یک حکمت نے روحانی اور جسمانی نظاموں کو ایک دوسرے سے بالکل جدا رکھا ہے۔روحانی میدان کی کمی عام حالات میں جسمانی میدان پوری نہیں کر سکتا اور جسمانی میدان کی کمی عام حالات میں روحانی میدان پوری نہیں کر سکتا یہ گو یا خدا تعالیٰ کی مرکزی حکومت کے ماتحت دو جدا جدا صو بائی حکومتیں ہیں جن میں ایک طرح کا ہوم رول قائم ہے گوشت کا قانون گوشت کے ساتھ ہے اور روح کا قانون روج کے ساتھ ہے۔بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَنخِینِ اگر خدا کا ایک برگزیدہ نبی بھی کوئی ایسی چیز کھائے گا جو ثقیل ہونے کی وجہ سے پیٹ میں درد پیدا کرنے والی ہے تو اس کا نبی ہونا اسے پیٹ کی درد سے نہیں بچا سکے گا۔کیونکہ نبوت روحانی میدان سے تعلق رکھتی ہے اور ثقیل چیز سے پیٹ میں درد ہونا جسم کے قانون کا حصہ ہے۔اسی طرح اگر دو ایسے آدمی گہرے پانی میں کو دیں گے جن میں سے ایک نیک ہے اور دوسرا بد تو وہ نیک آدمی جو تیرنا نہیں جاتنا ڈوب جائے گا لیکن وہ بد آدمی جو تیرنا جانتا ہے بچ جائے گا۔کیونکہ تیرنا یا ڈو بنا جسم کے قانون سے تعلق رکھتا ہے۔اور نیک آدمی کی نیکی اسے تیرنا سیکھنے کے بغیر ڈوبنے سے نہیں بچاسکتی۔یہ فرق اور امتیاز اس لئے ہے کہ اگر ایسا نہ ہو تو دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے اور بنی نوع انسان کی ساری ترقی رک جائے اور انسانی دماغ ایک ٹھوس اور منجمد پتھر کی طرح ٹھٹھک کر رہ جائے۔مثلاً اگر قوانین طب کی تحقیق کے بغیر محض دعا کی وجہ سے لوگوں کی بیماریاں دور ہو جائیں تو کسی کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ طبی تحقیقاتوں کے پیچھے سر گردان ہو یا اگر محض دعا کے نتیجہ میں انسان ڈوبنے سے بیچ جائے تو لوگ تیرنا کیوں سیکھیں اور کشتیوں اور جہازوں کو پانی کی سطح پر رکھنے کے اصول کیوں سوچیں ؟ الغرض غور کیا جائے تو علم اور سائنس کے ہر شعبہ کی ترقی محض اس وجہ سے ہے کہ مادہ کا قانون روح کے قانون سے جدا رکھا گیا ہے۔اور (مستثنیات کو الگ رکھتے ہوئے ) جب تک انسان مادہ کے قانون پر حاوی نہ ہو وہ محض روح کی توجہ اور دل کی دعا سے مادہ کے میدان میں ترقی نہیں کر سکتا۔لہذا بعض لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ ہم نے دعا کی تھی مگر پھر بھی فیل ہو گئے اور ہم نے سجدوں میں ناک رگڑی تھی مگر پھر بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے ایک خیال باطل ہے انہیں چاہیئے کہ امتحان کے لئے پڑھیں بھی اور دعا بھی کریں اور دینوی مقاصد کے لئے ظاہری کوشش بھی کریں اور خدا کے حضور سر بسجو د بھی رہیں۔کیونکہ دعا ایک روحانی تدبیر ہے اور محنت اور کوشش ایک ظاہری اور مادی تدبیر ہے اور دونوں کے ملنے سے ہی بہترین نتیجہ نکل سکتا ہے اور دراصل اسلامی تو کل کا یہی سچا فلسفہ ہے کہ دعا