مضامین بشیر (جلد 2) — Page 798
مضامین بشیر ۷۹۸ کہ یہ کتنی غیر معقول اور خلاف عقل بات ہے کہ انسان دنیا کی خالق و مالک ہستی کے متعلق تو یہ امید رکھے کہ وہ بہر حال اس کی مانے اور اس کی دعاؤں کو ہر صورت میں قبول کرے لیکن خود خادم ہوکر اپنے ما لک و آقا کی کسی خلاف مرضی تقدیر کو ماننے کے لئے تیار نہ ہو!! دوسری بات اس تعلق میں یہ جاننی ضروری ہے کہ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ مختلف لوگوں کی دعا ئیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور ایک شخص کی دعا قبول کرنے کا لازمی نتیجہ دوسرے شخص کی دعا کے رد کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔مثلاً ایک مالی اور باغبان ہے جس کا باغ سوکھ رہا ہے اور اسی پر اس کی ساری روزی کا دارو مدار ہے اور وہ فوری بارش کی دعا مانگتا ہے مگر ایک دوسرا شخص مٹی کے برتن بنانے والا گلِ ساز ہے اور اس کے بہت سے برتن خشک ہونے کے لئے دھوپ میں رکھے ہیں اور وہ اس بات کے لئے دست بدعا ہے کہ خدایا ابھی بارش کو کچھ عرصہ روک کر رکھتا کہ میری یہ زندگی کی پونجی تباہ نہ ہو جائے۔اب یہ دونوں دعائیں ایسی ہیں کہ ایک دوسرے کے بالکل متضاد اور مخالف پڑی ہوئی ہیں اور ایک کو قبول کرنا دوسری کو رد کرنے کے مترادف ہے۔پس لا محالہ ان حالات میں یا تو ان دعاؤں میں سے صرف ایک دعا ہی قبول ہوگی اور دوسری رد کر دی جائے گی اور یا خدا تعالیٰ ان دونوں دعاؤں کو نظر انداز کر کے ایک ایسا رستہ اختیار فرمائے گا جو باغبان اور گل ساز کی محدود ضرورتوں کے میدان سے باہر قدم رکھتے ہوئے علاقہ کی مجموعی ضرورت کے لحاظ سے مناسب ہوگا اور خدا اپنے مصالح کو بہتر سمجھتا ہے۔تیسری بات یہ یادرکھنے کے قابل ہے کہ بعض اوقات انسان ایک ایسی دعا مانگتا ہے جو درحقیقت خود اس کے لئے مضر ہوتی ہے لیکن وہ اس کی حقیقت کو نہیں سمجھتا یا یہ دعا اگر اب نہیں تو آئندہ چل کر اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہونے والی ہوتی ہے مگر وہ علم غیب نہ رکھنے کی وجہ سے اس کے نقصان کو نہیں جانتا تو اس صورت میں خدا کی رحمت کا یہی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ایسی دعاؤں کو رد کر دے۔اگر ایک ماں اپنے بچے کے ہاتھوں کو پکڑ سکتی ہے جو وہ اپنی نادانی سے شوق میں آکر آگ کے سُرخ و نیلگوں شعلوں کی طرف بڑھاتا ہے اور اس کے رونے اور چلانے کی پروا نہیں کرتی تو خدا جو ارحم الراحمين ہے کس طرح اپنے بندوں کی ان نادانی کی دعاؤں کو قبول کر سکتا ہے جو وہ بری چیزوں کو اچھا خیال کرتے ہوئے خدا سے مانگتے ہیں؟ پھر چوتھی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بعض لوگ دعا کرتے ہوئے قضاء وقدر کے قانون کو بالکل بھلا دیتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ وہ محض دعا کی وجہ سے ظاہری اسباب کو نظر انداز کرتے ہوئے کامیاب ہو جا ئیں۔مثلاً اگر کوئی امتحان دینا ہو تو محنت کرنے کے بغیر یا پوری محنت کرنے کے