مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 800 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 800

مضامین بشیر اور دوا دونوں کو ملایا جائے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بدوی رئیس آیا اور اپنے اخلاص کے جوش میں مسجد نبوی کے باہر ہی اپنی اونٹنی کھلی چھوڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہو گیا۔جب وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس گیا تو اس کی اونٹنی ادھر ادھر بہک کر غائب ہو چکی تھی وہ گھبرایا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں نے تو آپ کی مجلس کے شوق میں خدا پر توکل کرتے ہوئے اونٹنی کو کھلا چھوڑ دیا تھا مگر اب باہر گیا ہوں تو وہ غائب ہے۔آپ نے فرمایا : اعقل ثم توكل ] 66 یعنی پہلے اونٹنی کا گھٹنا باندھو اور پھر تو کل کرو۔“ الله الله !! کیا ہی سادہ مگر کیا ہی لطیف کلام ہے اور روح اور جسم کی مرکب حکمت سے کتنا لبریز !! اور یہ وہی حدیث ہے جس پر مولانا رومی علیہ الرحمۃ اللہ نے یہ مشہور مصرع کہا ہے کہ تو گل زانوئے أشتر بند کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب مادی تدبیروں کو بہر حال اختیار کرنا ضروری ہے تو پھر دعا کا کیا فائدہ ہے مگر یہ محض نادانی کا اعتراض ہوگا ہم ہر روز اپنی جسمانی بیماریوں کے لئے مرکب نسخے استعمال کرتے ہیں جن میں سے بعض میں تین دوائیاں پڑتی ہیں اور بعض میں چار اور بعض میں پانچ اور بعض میں اس سے بھی زیادہ تو کیا ہم اپنے اہم دینی اور دنیوی مقاصد میں کامیابی کے لئے دو دوائیاں بھی استعمال نہیں کر سکتے جن میں سے ایک روح کو تازہ رکھنے کے لئے ہے اور دوسری جسم کو چوکس و ہوشیار اور مستعد بنانے کے لئے ؟ دراصل دنیوی کاموں کے متعلق دعا سکھانے میں اسلام کے مدنظر دُہری غرض ہے ایک یہ کہ تا محض مادی باتوں میں پڑ کر مومن کی روح اور توجہ الی اللہ کا جذ بہ کمزور نہ ہونے پائے اور دوسرے یہ کہ تا مادی تدبیروں کے ساتھ دعا اور نصرت الہی کا زور شامل ہو کر ہمارے مقاصد کے حصول کو ہمارے لئے آسان تر کر دے اور یہی ہمیشہ انبیاء اور صلحاء کی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے دنیوی مقاصد میں ظاہری تدبیر کے ساتھ دعا کو اور دینی مقاصد میں دعا کے ساتھ ظاہری تدبیر کو شامل کرتے رہے ہیں مگر اصل بھروسہ خدا کی ذات پر رکھتے رہے ہیں اور یہ صراط مستقیم کا مرکزی نقطہ ہے ہاں اگر کسی وقت کوئی ظاہری تدبیر میسر ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں اہل اللہ صرف دعا پر بھروسہ کرتے ہوئے قدم بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور اسی میں خدا ان کے لئے کامیابی کا رستہ کھول دیتا ہے مگر یہ ایک استثنائی صورت ہے جس پر عام حالات کا قیاس نہیں ہونا چاہیئے۔