مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 754 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 754

مضامین بشیر ۷۵۴ فرض ہے کہ اعلیٰ درجہ کی نیکی کو لے لے اور نسبتا کم درجہ کی نیکی کی طرف سے آنکھیں بند کر کے خاموش ہو جائے۔شریعت اسلامی کا یہ ایک ایسا مسلمہ اصول ہے جس کی ہر زمانہ میں ہر مصلح نے تلقین کی ہے حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ بسا اوقات بعض مسلمان آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے تھے کہ یا رسول اللہ اس وقت ہمارے سامنے دو نیکیاں ہیں ہم ان میں سے کس کو اختیار کریں اور آپ ایسے موقعہ پر بلا تامل فرماتے تھے کہ اس وقت فلاں نیکی کو اختیار کر وا اور فلاں کو چھوڑ دو چنا نچہ قرآن شریف بھی اس بنیادی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ: اجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَوْنَ عِنْدَ اللهِ دو یعنی اے لوگو بے شک حاجیوں کو پانی پلانا اور بیت اللہ کو آباد رکھنا ایک نیکی ہے لیکن کیا صرف اس نیکی کو اختیار کرنے والا شخص اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو خدا پر ایمان لاتا اور یوم آخرت پر یقین رکھتا اور خدا کے رستے میں جان و مال سے جہاد کرتا ہے سنو اور سمجھو کہ یہ دو گروہ کبھی بھی خدا کے حضور برابر نہیں ہو سکتے۔یہ اصولی آیت بہت سے جزوی مسائل کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے کیونکہ اس آیت میں خدا تعالے یہ فلسفہ بیان فرماتا ہے کہ نیکیوں کے مختلف درجے ہوتے ہیں اور ہر درجہ کا علیحدہ علیحد ہ مقام ہے اور سب سے اعلیٰ نیکی وقت کے مامور کے ذریعہ خدا کی آواز پر کان دھرنا اور ایک جان ہو کر اس کے دین کی خدمت میں کمر بستہ رہنا ہے۔اب ہمارے معترض مہربان خودسوچیں کہ احمدیت کی صداقت اور جماعتی تنظیم کے ساتھ وابستگی کے مقابل پر اس قسم کی ذاتی باتوں کو کیا وزن حاصل ہے کہ فلاں تکلیف کے وقت ہمارے ساتھ ہمدردی نہیں کی گئی یا ہم فلاں وقت ملاقات کے لئے آئے اور ہمیں ملاقات کا وقت نہیں ملا وغیرہ وغیرہ؟ ہمدردی اور دلداری یقیناً ایک اچھی چیز اور نیکی کا فعل ہے مگر اسے ایمان اور جماعتی اتحاد کے مقابلہ پر لانا بعینہ اسی قسم کی بات ہے جیسا کہ مکہ کے قریش کہتے تھے کہ ہم حاجیوں کو پانی پلانے اور کھانا کھلانے والے پارسا لوگ ہیں۔ہمارے مقابلہ پر کسی اور کی نیکی کیا حقیقت رکھتی ہے؟ میں مانتا ہوں کہ انسان کی فطرت میں جذبات کا بھاری خمیر ہے اور وہ بسا اوقات جذباتی باتوں میں بڑی جلدی ٹھو کر کھاتا اور اپنے لئے لغزش کا سامان پیدا کر لیتا ہے لیکن خالق فطرت نے جذبات کے ساتھ عقل کا پاسبان بھی تو مقرر کر رکھا ہے اور یہ پاسبان اسی غرض سے ہے کہ انسان کو جذبات کی رو میں بہہ کر گمراہ ہونے سے بچائے۔پس ہمارے ان دوست کو سوچنا اور غور کرنا چاہئے کہ اول تو ممکن ہے کہ اس وقت ان کی طرح حضرت صاحب کی طبیعت بھی علیل ہو اور وہ زیادہ