مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 753 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 753

۷۵۳ مضامین بشیر دوست سے بدرجہا ز زیادہ کام کے بوجھ میں دبے ہوئے ہیں۔مجبوریوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں تو یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ انسان اپنی تکلیف کا تو خیال کرے لیکن امام کی تکلیف اور امام کی پریشانی اور امام کی مصروفیت کا اسے کوئی احساس نہ ہو! یقیناً یہ ایک بہت بھونڈی قسم کی تقسیم ہے جس سے ہر مخلص اور سنجیدہ آدمی کو پر ہیز کرنا چاہئے۔تیسری بات اس تعلق میں قابل غور یہ ہے کہ خود اپنے بیان کے مطابق یہ صاحب اس واقعہ کے قریباً آٹھ نو ماہ بعد قادیان میں مقیم رہے۔اور اس کے بعد فسادات کی وجہ سے وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوئے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اتنے لمبے عرصے تک انہوں نے قادیان میں یہ سوال نہیں اٹھایا۔اور ان کا یہ شکوہ ان کی زبان پر نہیں آیا۔لیکن جونہی وہ قادیان سے نکل کر لاہور آئے۔اور ہجرت کی وجہ سے جماعت کی تنظیم کو بظا ہر ایک دھکا پہو نچا۔تو ان صاحب کے پرانے دبے ہوئے گلے شکوے با ہر آنا شروع ہو گئے ؟ کیا اس صورت میں ہر شخص یہ خیال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔دراصل یہ گلہ شکوہ اس بیان کردہ واقعہ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس ناگوار تزلزل کی وجہ سے ہے۔جو قادیان کی ہجرت اور جماعت کے وقتی انتشار کی بناء پر بعض کمزور لوگوں میں پیدا ہو رہا ہے۔غور کا مقام ہے کہ ایک خاص قسم کا جذبہ اور ایک غیر معمولی نوع کا احساس نو ماہ کے طویل عرصہ تک دل کی گہرائیوں میں مخفی رہتا ہے اور زبان تک آنے کا نام نہیں لیتا۔لیکن جو نہی کہ قادیان سے جماعت باہر نکلتی ہے۔اور اس میں ایک وقتی انتشار کی صورت پیدا ہوتی ہے تو یہ خفی جذبہ ایک بھاری گلہ شکوہ بن کر پھوٹ پڑتا ہے۔میں بدظنی نہیں کرتا لیکن ان صاحب کی ہمدردی کے خیال سے انہیں توجہ دلانے پر مجبور ہوں کہ وہ خدا را سوچیں اور غور کریں کہ کیا ان کا نفس انہیں دھو کہ تو نہیں دے رہا اور کیا ان کا یہ اعتراض موجودہ ابتلا کا نتیجہ تو نہیں ؟ انہیں یا درکھنا چاہئے کہ سچے مومن کا قدم ہر آزمائش اور ابتلاء کے وقت میں آگے کی طرف اٹھتا ہے۔پس جس شخص کا قدم امتحان کے وقت میں پیچھے ہٹنے یا لغزش کھا کر نیچے گرنے کی طرف مائل ہو اسے فرضی اور جھوٹی باتوں سے تسلی پانے کی بجائے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔میرے یہ الفاظ بھی شاید تلخ سمجھے جائیں مگر نیک نیتی کی تلخی نیک نیت لوگوں کو بری نہیں لگنی چاہئے۔چوتھا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ ہماری شریعت نے اعمال کے مختلف در جے مقرر کر رکھے ہیں اور ہر سچے مومن کا فرض ہے کہ جب اس کے سامنے دو ایسے عمل پیش ہوں جن میں سے وہ حالات کی مجبوری کی وجہ سے صرف ایک کو اختیار کر سکتا ہو۔تو اسے چاہئے کہ بہتر عمل کو اختیار کر کے نسبتاً ادنیٰ عمل کو اس پر قربان کر دے۔نیکیاں دنیا میں بے شمار ہیں اور ہر انسان کو چاہئے کہ حتی الوسع ہر نیکی پر عمل کرنے کی کوشش کرے لیکن جہاں کسی خاص موقع پر دو نیکیاں آپس میں ٹکراتی ہوں وہاں انسان کا