مضامین بشیر (جلد 2) — Page 729
۷۲۹ مضامین بشیر پڑھ لینا ساری عمر کے لئے کیوں کافی نہیں ہو سکتا ؟ بلکہ جب ایک بچہ کے پیدا ہونے پر ماں باپ اس کے کان میں اذان دیتے ہیں تو اسی اذان کو ہی کیوں نہ ساری عمر کے لئے برکت کا کافی وشافی تعویذ سمجھ لیا جائے۔افسوس ! صد افسوس ! کہ لوگوں نے اپنی مستیوں کے لئے کیا کیا بہانے بنا رکھے ہیں۔قرآن شریف خوب فرماتا ہے کہ: كَانَ الْإِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا - یعنی انسان اکثر باتوں میں بہانے ڈھونڈنے کے لئے جھگڑا کھڑا کر دیتا ہے ، پھر لطف یہ ہے کہ انہی صاحب نے اپنے خط میں بسم اللہ تو ترک کی تھی لیکن السلام علیکم و رحمتہ اللہ کے الفاظ ترک نہیں کئے تھے۔تو کیا السلام علیکم ورحمۃ اللہ میں جو اللہ کا لفظ آتا ہے اس کے ادھر ادھر گرنے سے بے حرمتی نہیں ہوتی ؟ کیا صرف بسم اللہ میں درج شدہ لفظ اللہ ہی ایسا ہے کہ اگر اس کا کا غذا دھرا دھر گر جائے تو بے حرمتی ہو جاتی ہے ،لیکن اگر کسی اور تحریر میں یہی لفظ آیا ہو ، تو اس کے گرنے سے بے حرمتی نہیں ہوتی ؟ تو اب گو یا اس خطرہ کی وجہ سے انسان اپنی ساری تحریروں میں اللہ کا لفظ ترک کر دے۔اور دین سے بالکل خالی ہوکر بیٹھ جائے۔نعوذ بالله من ذالک۔یہ سب نفس کے بہانے ہیں جو نا واقعی یاستی یا بے احتیاطی سے پیدا ہوتے ہیں۔اور بعض کمزور انسانوں کا دل ان پر سہارا لے کر مسنون طریق سے غافل ہو جاتا ہے۔بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ ہمارے ہادی و مرشد نے مسلمانوں کے دلوں میں خدا کی یاد تازہ رکھنے کے لئے اور نیز اس غرض سے کہ ان کا ہر اہم کام اللہ کے نام سے شروع ہو کر برکتوں کا وارث بنے۔ہمیں تعلیم دی ہے کہ اپنے ہر کام کو خدا کے نام سے شروع کیا کرو بلکہ یہاں تک فرمایا ہے کہ: کل امر دی بال لم يبداء بسم الله فهو ابتر - یعنی ہر وہ کام جو تھوڑی بہت اہمیت بھی رکھتا ہوا گر وہ خدا کے نام کے بغیر شروع کیا جائے۔تو وہ روحانی برکتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔تو پھر کتنا افسوس کا مقام ہے کہ ہم ایسے تاکیدی ارشاد کے باوجودا اپنی تحریروں میں بسم اللہ کی دعا کو نظر انداز کر کے خود اپنے ہاتھ سے برکتوں سے محرومی کا دروازہ کھولیں۔اس اہم قولی ارشاد کے علاوہ آنحضرت ﷺ نے عملاً بھی یہی سنت قائم کی ہے کہ ہر ذوبال ( یعنی تھوڑی بہت اہمیت رکھنے والی) تحریر کو اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرنا چاہئے۔چنانچہ آپ نے اپنی زندگی میں جتنے بھی خط لکھے اور جو معاہدے بھی کئے ، ان سب کو خدا کے نام کے ساتھ شروع کیا۔چنانچہ قیصر و کسریٰ اور مقوقس و نجاشی کے وہ خطوط ہمارے سامنے ہیں جو آنحضرت ﷺ نے تبلیغ کی غرض سے انہیں بھجوائے اور ان سب کو بسم اللہ کے مبارک الفاظ کے ساتھ شروع کیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے کبھی بھی اس فرضی یا حقیقی خطرہ کی وجہ سے بسم اللہ کے الفاظ ترک نہیں کئے کہ شاید یہ تحریر ادھر ادھر گر کر بے حرمتی کا باعث بن جائے گی۔بلکہ تاریخ تو ہمیں یہاں تک بتاتی ہے کہ ایران