مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 728 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 728

مضامین بشیر ۷۲۸ مومن کا ہر کام خدا کے نام سے شروع ہونا چاہئے کوئی من گھڑت عدد بسم اللہ کا قائم مقام نہیں بن سکتا چند دن ہوئے مجھے ایک معزز غیر احمدی دوست کا خط آیا تھا جس کے شروع میں بسم الله الرحمن الرحیم کی بجائے ۷۸۶ کا عد دلکھا ہوا تھا۔کیونکہ ابجد کے اصول کے مطابق یہی بسم اللہ کا عدد بنتا ہے اور اکثر لوگ اس خیال سے کہ کہیں خط یا خط کا پرزہ ادھر ادھر گر کر اللہ کے نام کی بے حرمتی کا موجب نہ بن جائے ، بسم اللہ کے الفاظ ترک کر کے ۷۸۶ کا عد دلکھ دیتے ہیں۔بہر حال اس معزز غیر احمدی دوست کا خط آنے پر میں نے انہیں از راہ نصیحت لکھا کہ ۷۸۶ کے عدد کو بسم اللہ کے مبارک الفاظ سے کیا نسبت ہو سکتی ہے ، اور عرض کیا کہ آپ کو آئندہ اپنی تحریر کے شروع میں ارشاد نبوی کے مطابق بسم اللہ کے الفاظ لکھنے چاہئیں۔اور میں امید کرتا ہوں کہ میرے اس دوست نے میری اس مخلصانہ نصیحت کو قدر کی نظر سے دیکھا ہوگا۔اس کے دو تین روز بعد مجھے ربوہ سے ایک احمدی نوجوان کا خط آیا اور مجھے حیرت ہوئی کہ انہوں نے بھی اپنے خط کے شروع میں بسم اللہ کے الفاظ ترک کئے ہوئے تھے بلکہ ۷۸۶ کا عد د بھی ترک کیا ہوا تھا۔گویا نہ بسم اللہ رہی۔اور نہ اس کا فرضی قائم مقام رہا۔میں نے اس احمدی نوجوان کو بھی نصیحت کا خط لکھا کہ اپنی ہر تحریر کو بسم اللہ سے شروع کرنا مسنون طریق ہے اس لئے آپ کو یہ طریق ترک نہیں کرنا چاہئے۔اس نوجوان نے جواب دیا کہ میں نے آپ کے لکھنے پر اصلاح تو کر لی ہے لیکن میں نے بسم اللہ کے الفاظ عمد اترک کئے تھے ، کیونکہ بعض اوقات خطوط یا ان کے پرزوں کے ادھر ادھر گرنے سے اللہ کے نام کی بے حرمتی کا اندیشہ ہوتا ہے اور یہ بھی لکھا کہ میں ہر روز صبح کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کرتا ہوں۔جو گویا سارے دن کے لئے کافی ہو جاتی ہے۔مجھے اس احمدی نوجوان کی اس تشریح پر افسوس ہوا کہ بعض نو جوان کس طرح مسنون طریق سے دور چلے جاتے ہیں اور اپنے غلط خیال پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک ایسی تشریح پیش کر دیتے ہیں جو مضحکہ خیز ہوتی ہے۔اگر ہر روز صبح کے وقت بسم اللہ پڑھ کر کام شروع کرنا دن بھر کے کاموں کے لئے کافی ہو سکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ قضائے عمری کے مفروضہ اصول پر زندگی میں ایک دفعہ بسم الله