مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 51 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 51

۵۱ مضامین بشیر انتہاء کو پہنچ گئے تو پھر بھی حضرت موسیٰ نے بغاوت کی بجائے ملک سے ہجرت کر جانے کا طریق اختیار کیا اور ملک کے اندر رہتے ہوئے قانون شکنی نہیں کی * اسی طرح یہ تاریخی واقعہ بھی دنیا جانتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فلسطین کی رومی حکومت کے ماتحت پیدا ہوئے تھے اور اسی کے ماتحت انہوں نے اپنی ساری معروف زندگی گزاری اور کبھی قانون کا دامن نہیں چھوڑا۔حتی کہ جب ان کے یہودی دشمنوں نے انہیں بغاوت کے جھوٹے الزام میں پھانس کر ماخوذ کرانا چاہا تو اس وقت بھی انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ میری یہی تعلیم ہے کہ قیصر کا حق قیصر کو دو اور خدا کا حق خدا کو دو PA 66 حتی کہ بقول مسیحی صاحبان انہوں نے اسی حکومت روما کی ایک عدالت کے فیصلہ کے مطابق صلیب پر جان دے دی مگر حکومت کے خلاف سر نہیں اٹھایا ! پھر ان مشہور و معروف تاریخی واقعات سے کون بے خبر ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سال تک مکہ والوں کی حکومت کے مظالم برداشت کئے حتی کہ بعض بے گناہ مسلمان اس عرصہ میں مشرکین مکہ کے ہاتھوں شہید بھی ہو گئے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ان ظلموں کو انتہائی صبر کے ساتھ برداشت کیا لیکن حکومت مکہ کے خلاف مکہ میں رہتے ہوئے بغاوت کے طریق سے ہر حال میں مجتنب رہے۔یہ خیال کرنا کہ مکہ میں کوئی حکومت نہیں تھی اور نہ کوئی قانون تھا اور ہر شخص گویا مادر پدر آزاد تھا درست نہیں ہے کیونکہ خواہ اہل مکہ کی حکومت کیسی بھی ظالمانہ تھی۔وہ بہر حال ایک حکومت تھی اور مختلف قبائل قریش کے لیڈروں کا ایک بورڈ بھی مقرر تھا۔جوند وہ کہلاتا تھا۔جس کے ممبروں کے ہاتھ میں حکومت کے مختلف شعبہ سپر د تھے اور اس طرح ایک ابتدائی مگر اپنے رنگ میں مکمل جمہوری نظام کی صورت قائم تھی۔لیکن باوجود اس کے کہ اس ملی حکومت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی مٹھی بھر جماعت پر سخت سے سخت مظالم کئے۔آپ نے انہیں کامل صبر کے ساتھ برداشت کیا اور جب یہ مظالم انتہاء کو پہنچ گئے تو اس وقت بھی بغاوت اور فساد کے طریق سے مجتنب رہے۔اور صرف اتنا کیا کہ ایک حصہ مسلمانوں کا افریقہ میں حبشہ کی طرف بھیجوا دیا۔جس نے نجاشی کی عیسائی حکومت کی پناہ لی اور بالآخر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور باقی ماندہ صحابہ مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔مگر آپ نے اپنے عمل سے دنیا کو بتا دیا کہ ہم ایک غیر اسلامی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے اور حکومت بھی وہ جو انتہا درجہ ظالمانہ تھی ، پھر بھی اس حکومت کے مطیع رہے ہیں اور کسی قسم کی بغاوت یا : سورة طه