مضامین بشیر (جلد 2) — Page 43
۴۳ مضامین بشیر حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ کی مساعی وتی میں ار اکتوبر (بذریعہ ڈاک) کوٹھی نمبر ۸ یارک روڈ نئی دہلی کے وسیع صحن میں بدھ کی شام کو ساڑھے پانچ بجے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ایک پبلک تقریر ہوئی ، جس میں دعوتی رقعوں کے ذریعہ معززین کو مدعو کیا گیا تھا۔باوجود اس کے کہ تقریر کا وقت مناسب نہیں تھا کیونکہ ملازم پیشہ لوگوں کو دفتر سے فارغ ہوتے ہی آنا پڑتا تھا زائد از چھ سو غیر احمدی اور غیر مسلم معززین تشریف لائے اور آخر وقت تک بیٹھ کر نہایت سکون اور توجہ کے ساتھ حضور کی تقریر کو سنا۔احمدی سامعین اس تعداد کے علاوہ تھے۔تقریر کے اختتام پر جو نماز کا وقت ہو جانے پر جلد ختم کر دینی پڑی ، بعض غیر احمدی معززین یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ افسوس ہے کہ وقت تنگ ہونے کی وجہ سے تقریر کا مضمون جو نہایت علمی اور دلچسپ تھا ختم نہیں ہو سکا۔جیسا کہ پہلے اعلان ہو چکا ہے تقریر کا موضوع یہ تھا کہ ”دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے۔نماز کے بعد نیز دوسرے دن بعض معززین نے تقریر سے متعلقہ مضمون پر حضور سے بعض سوالات کئے اور تسلی پا کر واپس گئے۔۱۹۴۴ء کی تقریر کے مقابلہ پر جبکہ بعض دتی والوں نے اتنا ہنگامہ برپا کیا تھا۔۱۹۴۶ء کی تقریر نے ثابت کر دیا کہ اب خدا کے فضل سے اہل دہلی کے قفل کھلنے شروع ہو گئے ہیں۔مسلم لیگ اور کانگرس کی سیاسی گفت وشنید کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور چھوٹے چھوٹے سوالات اٹھ کر آخری مفاہمت کو التوا میں ڈال رہے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ مسٹر گاندھی نے اس سوال کے متعلق ایک فارمولا پیش کیا تھا کہ کانگریس اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ لیگ جمہور مسلمانانِ ہند کی نمائندہ جماعت ہے مگر کانگرس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کانگرسی مسلمانوں میں سے کسی کو اپنا نمائندہ بنائے۔مسٹر جناح نے اس فارمولا کو منظور کر لیا تھا مگر کانگرس کے بعض ارباب حل و عقد اس پر معترض ہیں۔امید کی جاتی ہے کہ اگر کوئی خاص روک نہ پیدا ہوگئی یا موجودہ روک نے زیادہ سخت صورت نہ اختیار کر لی تو دو تین دن میں مفاہمت کی صورت پیدا ہو جائے گی۔احباب کو دعا کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیئے۔جمعرات کی صبح کو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اور پنڈت نہر وصاحب کی ملاقات ہوئی۔حضور کا احساس ہے کہ نہر وصاحب کچھ مشوش نظر آتے تھے اس لئے گفتگو زیادہ مفصل نہیں ہوسکی۔ایک خط کے ذریعہ حضور نے ہز ہائینس نواب صاحب بھوپال کی مساعی کی تعریف فرمائی ہے اور