مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 401 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 401

۴۰۱ مضامین بشیر بات کی پُر زور تائید کرتی ہے کہ شروع سے ہی اسباق الاشیاء وغیرہ کی صورت میں سائنس کی تعلیم کو داخل نصاب کرنا چاہئے۔علم طبیعات اور علم کیمیا کے ضروری مسائل سادہ اور دلچسپ رنگ میں اسباق الاشیاء کی صورت میں نصاب کا حصہ بنائے جا سکتے ہیں۔اسی طرح ایسی نئی ایجادات جن کے ساتھ آجکل کے زمانہ میں ہر شہری کا روزانہ واسطہ پڑتا ہے۔مثلاً تار۔ٹیلیفون ، وائرلیس۔ہوائی جہاز اور پھر موٹر ریل۔دخانی جہاز اور جنگی اسلحہ وغیرہ کے متعلق سادہ ابتدائی معلومات داخل نصاب کئے جا سکتے ہیں۔(۱۴) کمیٹی ہذا اس بات کی مؤید ہے کہ بچوں میں ملک کی بنیادی صنعتوں کے ساتھ ابتدا سے ہی لگاؤ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اور ہمارے خیال میں شروع میں اس کے لئے تین شعبوں کا انتخاب ضروری ہوگا۔یعنی (۱) زراعت (۲) تجارت (۳) دستکاری۔ان تینوں کے متعلق ابتدائی علمی اور عملی معلومات کا مہیا کرنا ضروری ہے۔زراعت کی تعلیم کے لئے سکولوں میں ترقی یافتہ اصولوں اور عملی کام کی ٹریننگ کا انتظام ہونا چاہئے۔تجارت میں درآمد و برآمد کے موٹے اصول اور چیزوں کے خرید نے اور فروخت کرنے کے طریق بتائے جائیں۔اور دستکاری میں بعض عام صنعتوں کی ابتدائی تعلیم شامل کی جاسکتی ہے۔(۱۵) ورزش کا سوال بھی نہایت اہم ہے اور قوم کی جسمانی ترقی اور صحتوں کی درستی پر بھاری اثر رکھتا ہے۔پس سکولوں میں اس کی طرف بھی واجبی توجہ ہونی چاہئے۔کھیلیں ایسی رکھی جائیں جو چار اغراض کو پورا کرنے والی ہوں۔(۱) جسم اور اعصاب کی طاقت کو بڑھانے والی ہوں۔(۲) جسم میں پھرتی پیدا کرنے والی ہوں (۳) عقل کو تیز کرنے والی ہوں اور (۴) باہم تعاون کی روح کو ترقی دینے والی ہوں۔نیز کمیٹی ہذا کی رائے میں بچوں کو تین فنون کا سکھانا ضروری ہے۔جس کا سکول کی طرف سے انتظام ہونا چاہئیے۔(الف) تیرنا - (ب) سواری سائیکل کی یا گھوڑے کی یا اگر ممکن ہو تو موٹر کی بھی (ج ) بندوق چلانا۔جس کے لئے ابتدا ہوائی بندوق اور بعد میں ۲۲ بور کی رائفل کلمبیں جاری کی جا سکتی ہیں تا کہ ابتداء سے ہی بچوں میں فنون سپہ گری کا ملکہ اور شوق پیدا ہو۔(۱۶) بالآخر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہم نے نصاب کے متعلق جو سفارشات کی ہیں ان میں اپنی تجاویز کو صرف پرائمری اور مڈل کی تعلیم تک محدود رکھا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر ہم نے کسی مضمون کے مڈل میں رکھے جانے کی سفارش کی ہے تو وہ ہائی کلاسز میں بھی ضرور رکھا جائے گا۔اور اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر ہم نے کسی مضمون کے متعلق یہ سفارش کی ہے کہ وہ مڈل میں نہ رکھا