مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 400 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 400

مضامین بشیر ۴۰۰ جس کی وجہ سے ان دو مستقل مضمونوں کو لازماً ایک لڑی میں پرو کر رکھنا ضروری ہو۔پس انہیں علیحدہ علیحدہ کر دینا ہماری کمیٹی کی رائے میں زیادہ مفید ہوگا۔(۲) ہماری کمیٹی اس بات کی پر زور مؤید ہے کہ ذریعہ تعلیم بلا توقف اردو کو قرار دینا چاہئے۔(۷) اردو کا نصاب بھی کافی اصلاح چاہتا ہے اس میں دیگر مفید مواد کے علاوہ اسلامی تاریخ کے خاص خاص واقعات اور مشاہیر اسلام کے خاص خاص حالات کا عنصر کا فی شامل ہونا چاہئے۔مگر ضروری ہے کہ اردو میں تکلف کے طریق پر اور غیر طبعی رنگ میں عربی اور فارسی کے الفاظ نہ ٹھونسے جائیں۔بلکہ اسے ایک زندہ چیز کی طرح طبعی رنگ میں ترقی کرنے کا موقع دیا جائے اور ابتدائی جماعتوں میں تو لازماً زبان بہت سادہ اور سلیس ہونی چاہئیے۔اس کے علاوہ اردو کورس میں سادہ اور مؤثر قومی اور اخلاقی نظمیں بھی شامل کی جائیں۔(۸) ہماری کمیٹی یہ سفارش بھی کرتی ہے کہ چونکہ عربی مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے اور قرآن شریف اور حدیث کے سمجھنے کے لئے عربی کا علم ضروری ہے اور اردو کی تکمیل کے لئے بھی عربی کافی اثر رکھتی ہے اس لئے مڈل کی پہلی جماعت سے عربی کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔(۹) ہماری کمیٹی پرائمری یا مڈل کی جماعتوں میں فارسی کے نصاب کے داخل کرنے کی تائید میں نہیں ہے کیونکہ اول تو فارسی کو ہمارے ملک یا ہمارے مذہب کے ساتھ اتنا گہرا تعلق نہیں ہے۔جتنا کہ اردو یا عربی کو ہے۔دوسرے بچوں کے دماغوں پر زیادہ زبانوں کا بوجھ ڈالنا کسی طرح مفید نتائج پیدا کرنے والا نہیں سمجھا جاسکتا۔(۱۰) ہماری کمیٹی اس بات کی سفارش کرتی ہے کہ انگریزی زبان کی تعلیم کو پرائمری اور مڈل کے نصاب سے کلی طور پر خارج کر دیا جائے۔انگریز کے چلے جانے سے ہمارے لئے اس زبان کی وہ اہمیت نہیں رہی جو پہلے تھی اور کوئی وجہ نہیں کہ ایک غیر ملکی زبان کے بوجھ سے اپنے بچوں کی ابتدائی تعلیم کو مشوش کیا جائے۔(۱۱) جغرافیہ ایک ضروری علم ہے اور لازمی ہونا چاہئیے۔اس کا پولٹیکل اور طبعی حصہ ہر دو نہایت ضروری اور مفید ہیں۔(۱۲) ریاضی ایک نہایت ضروری علم ہے اور خود قرآن شریف نے اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا ہے پس اس پر زیادہ زور ہونا چاہئیے۔یہ علم نہ صرف اپنی ذات میں مفید ہے بلکہ بچوں میں محنت اور استغراق اور صحیح الخیالی کا ملکہ پیدا کرنے میں بھی بھاری اثر رکھتا ہے۔(۱۳) سائنس کے ساتھ بچپن سے ہی قومی بچوں کا لگاؤ پیدا کرانا ضروری ہے اور ہماری کمیٹی اس