مضامین بشیر (جلد 2) — Page 365
۳۶۵ خود تیار رہو اور دوسروں کو تیار رکھو۔سرحدوں کو مضبوط بناؤ اور اسی اصول کی مزید تشریح میں دوسری جگہ قرآن شریف فرماتا ہے : تف يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ 1 مضامین بشیر یعنی اے مسلما نو تم دشمن کے مقابلہ پر کامل صبر و استقلال کا نمونہ دکھاؤ اور نہ صرف خود صبر واستقلال پر قائم رہو۔بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی صبر و استقلال پر قائم رکھو اور اپنی سرحدوں کو خوب مضبوط بناؤ اور ہرامر میں خدا اور اس کے بنائے ہوئے اسباب کا سہارا ڈھونڈ و تا کہ تم کامیاب ہوسکو۔اس آیت میں جو اصبر و کا لفظ ہے ( یعنی کامل صبر و استقلال پر قائم رہو ) اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ایک با قاعدہ سکیم بنا کر اور پروگرام مرتب کر کے دشمن کے مقابلہ پر استقلال کے ساتھ تیار رہو کیونکہ صبر کے معنے ایک حالت پر استقلال کے ساتھ قائم رہنے کے ہیں اور اس طرح گویا اس لفظ کے اندر ہی سکیم اور پروگرام کا مفہوم بھی آجاتا ہے کیونکہ جب کوئی بات ہی نہ ہوگی تو صبر و استقلال پر کیا جائے گا۔اسی طرح صابِرُوا۔کا لفظ ( یعنی دوسروں کو بھی صبر و استقلال کے مقام پر قائم رکھو) اپنے اندر دو مفہوم رکھتا ہے۔اوّل یہ مفہوم کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف خود دشمن کے مقابلہ پر تیار رہے بلکہ اپنے اردگرد کے مسلمانوں کو بھی (خواہ وہ لڑائی کے قابل ہوں یا دوسرے ) ہوشیار اور تیار رکھنے کی کوشش کرے۔دوسرے اس لفظ میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ نہ صرف مسلمانوں کا جنگجو حصہ جو لڑائی کے قابل ہے مقابلہ کے لئے چوکس اور تیار رہنا چاہئے بلکہ مسلمانوں کی آبادی کا وہ حصہ بھی جو اپنی کمزوری کی وجہ سے جنگ میں عملی حصہ نہیں لے سکتا ( مثلاً عورتیں بچے یا بوڑھے مرد وغیرہ ) وہ بھی مقابلہ کے لئے بالواسطہ تیار رہنا چاہئے۔آجکل کے جنگی حالات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ کوئی ملک صرف اپنی فوج کے بل بوتے پر لڑ کر کامیاب نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا غیر فوجی حصہ بھی ، بلکہ وہ حصہ بھی جو جنگی خدمت کے قابل نہیں دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار ہونا چاہئے ، گو یہ علیحدہ امر ہے کہ ان کی تیاری فوجیوں سے مختلف قسم کی ہوگی۔یہ وہ حقیقت ہے جسے اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے قرآن میں پیش کر کے مسلمانوں کو ہوشیار کیا ہے کہ صرف یہی کافی نہیں کہ تم اصبروا کے حکم پر عمل کر کے خود صبر و استقلال کے ساتھ مقابلہ کے لئے تیار رہو بلکہ تمہیں صَابِرُوا کے حکم پر بھی عمل کرنا چاہئے۔یعنی ملک کی غیر جنگجو آبادی کو بھی دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار رکھنا چاہئے ، گویا مسلمانوں کی عورتیں بھی تیار رہیں اور بچے بھی تیار ہیں اور بوڑھے بھی تیار رہیں تا کہ