مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 366 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 366

مضامین بشیر ۳۶۶ مسلمانوں کا جنگجو حصہ یعنی وہ حصہ جو لڑنے کے قابل ہے اس بات کی وجہ سے تسلی پائے کہ اس کے پیچھے غیر جنگجو حصہ بھی اپنے اپنے رنگ میں اور اپنے اپنے میدان میں ہرا حتیاطی تدبیر اور ہر مقابلہ اور ہر قربانی کے لئے تیار بیٹھا ہے۔اسی طرح اس آیت کریمہ میں رابطوا کا حکم بھاری حکمت پر مبنی ہے۔اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ صرف ملک کے اندورنی حصہ میں ہی تیار رہنا کافی نہیں بلکہ ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کو بھی مضبوط رکھے تا کہ ظالم دشمن کا پہلے قدم پر ہی مقابلہ کیا جاسکے خواہ سرحد پر اور خواہ اگر ضرورت ہو تو دشمن کے علاقہ میں گھس کر۔اسی لئے اس لفظ میں عربی محاورہ کے مطابق یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ سرحدوں پر سواریوں کا انتظام بھی ہونا چاہئے کیونکہ سواری ہی نقل و حرکت کو آسان بنانے کا پختہ ذریعہ ہے۔بالآخر قرآن شریف نے اتقوا الله کے الفاظ فرمائے ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا پر توکل کرو اور خدا کو اپنی ڈھال بناؤ اور عربی محاورہ کے مطابق اللہ کے مفہوم میں خدا اور اس کا بتایا ہوا قانون اور اس کے پیدا کئے ہوئے اسباب سب شامل ہیں۔گویا واتقوا الله کے پورے معنی یہ ہیں کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے خدا کے بنائے ہوئے اسباب کو اختیار کر و مگر ساتھ ہی خدا پر اور اس کی نصرت پر بھروسہ رکھو اور اس سے دعائیں کرتے رہو۔خلاصہ کلام یہ کہ اس آیت میں پانچ اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔(۱) لڑنے کے قابل آبادی کا ایک باقاعدہ پروگرام اور سکیم کے مطابق دشمن کے مقابلہ کے لئے صبر و استقلال کے ساتھ تیار رہنا یعنی با قاعدہ فوج بھی اور ریز رو حصہ بھی (۲) ملک کی دوسری آبادی یعنی ( عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں ) کو بھی اپنے اپنے میدان اور اپنے اپنے حلقہ کار میں تیار رکھنا (۳) سرحدوں کو پوری طرح مضبوط کرنا (۴) خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے تمام سامانوں کو اپنی تیاری میں استعمال کرنا اور جنگی تیاری کے کسی پہلو کو نظر انداز نہ کرنا اور ( ۵ ) بایں ہمہ اصل بھر وسہ صرف خدا پر رکھنا اور اس کی نصرت کے لئے ہر وقت دست بدعا ر ہنا۔یہ سوال کہ غیر جنگی آبادی کی تیاری سے کیا مراد ہے۔آجکل کے حالات کے لحاظ سے کوئی مشکل سوال نہیں ہے۔اس تعلق میں سب سے اول نمبر پر تو ہمت اور روح یعنی (Morale ) کو بلند رکھنا ضروری ہے۔اس کے علاوہ ہوائی حملہ کے بچاؤ کی تدابیر کی ٹرینینگ ، زخمیوں کی نرسنگ ، بعض جنگی سامان کی تیاری میں امداد وغیرہ کئی قسم کے کام ہیں جن میں ملک کا غیر جنگجوحصہ معقول مدد دے سکتا ہے۔