مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 364 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 364

مضامین بشیر ۳۶۴ کے خواہاں رہو لیکن جب دشمن کے ساتھ لڑنا پڑے تو پھر خوب ڈٹ کر صبر واستقلال کے ساتھ مقابلہ کرو۔اسی اصول کی طرف ذیل کی قرآنی آیت بھی اشارہ کرتی ہے اور یہ وہ آیت ہے جو جہاد کی اجازت کے متعلق سب سے پہلے نازل ہوئی خدا تعالیٰ فرماتا ہے : أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ الله عَلى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ یعنی مسلمانوں کو جن کے خلاف ظالم دشمن نے جنگ کا آغاز کیا ہے مقابلہ کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً خدا تعالیٰ اپنے کمزور بندوں کی مدد کی طاقت رکھتا ہے۔اس تعلیم میں یہ بھاری حکمت مضمر ہے کہ ایک تو پہل کرنے والا انسان بسا اوقات غلط اندازہ کر کے یا حد اعتدال سے تجاوز کر کے ظالم کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور اسلام مسلمانوں کو کسی صورت میں بھی ظالم بنانا نہیں چاہتا۔دوسرے پہل کرنے والا عموماً تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اور یہ ذہنی کیفیت بھی اسلام میں نہایت درجہ مکر وہ سمجھی گئی ہے۔کیونکہ اس سے ایک تو تو کل علی اللہ کا جذبہ کمزور ہو جاتا ہے اور دوسرے گھمنڈ کی صورت پیدا ہو کر انسان بسا اوقات غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔پس اسلام نے ہر وقت چوکس اور تیار رہنے کی ہدایت دینے کے با وجو داس بات کو قطعاً پسند نہیں کیا کہ مسلمان دشمن کے ساتھ لڑائی کرنے میں پہل کریں۔ضروری ہے کہ مسلمان ہر وقت مقابلہ کے لئے تیار رہیں لیکن جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے پہل نہ کرنے کے یہ معنے نہیں کہ مسلمان ستی اور غفلت میں اپنا وقت گزاریں بلکہ انہیں ہر وقت اپنی تنظیم اور ضروری ٹریننگ اور ضروری تیاری کی طرف متوجہ رہنا چاہئے تا کہ ایسا کوئی وقت نہ آئے کہ وہ گویا سوتے ہوئے پکڑے جائیں۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے۔وَاعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ اخْيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ۔یعنی اے مسلمانو دشمن کے مقابلہ کے لئے اپنی پوری قوت کے ساتھ تیاری رکھو اور اپنی سرحدوں پر حفاظتی چوکیوں کو مضبوط کرو جن میں نقل و حرکت کا بھی پورا سامان موجود رہنا چائیے تا خدا کا دشمن اور تمہارا دشمن تمہاری غفلت اور عدم تیاری کی وجہ سے تمہارے خلاف جرات کرنے کی ہمت نہ پاسکے بلکہ تمہاری تیاری اور چوکسی کو دیکھ کر تم سے خائف رہے۔