مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 333 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 333

۳۳۳ مضامین بشیر فوٹو کھچوانے کے متعلق ایک لائکپوری دوست کا سوال شرعی احکام میں حرمت کا لطیف فلسفہ لائل پور سے ایک احمدی دوست فوٹو کھچوانے کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ آیا فوٹو اتر وانا جائز ہے یا نہیں ؟ وہ لکھتے ہیں کہ اس بارے میں ایک غیر احمدی دوست کے ساتھ ان کا اختلاف ہو گیا ہے۔غیر احمدی دوست بڑی سختی کے ساتھ فوٹو اتر وانے کے خلاف ہیں۔بلکہ اسے ایک بھاری گناہ خیال کرتے ہیں اور اس کے مقابل پر ہمارے یہ احمدی دوست اسے جائز سمجھتے ہیں اور شریعت کی رُو سے اس پر کسی صورت میں بھی کوئی اعتراض نہیں دیکھتے۔اس تعلق میں سب سے پہلی بات تو میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ میں مفتی نہیں ہوں۔اگر ہمارے دوست جماعتی فتویٰ چاہتے ہیں تو انہیں جماعت کے مقررہ مفتی کی خدمت میں لکھنا چاہئیے۔جو آج کل مولوی سیف الرحمن صاحب فاضل ہیں۔لیکن اگر میری ذاتی رائے معلوم کرنی ہو اور بہر حال میری ذاتی رائے میرے علم کے مطابق جماعتی رائے کے مطابق ہی ہوگی۔تو وہ مختصر طور پر درج ذیل ہے۔سب سے پہلی گزارش یہ ہے کہ اس بات میں ہر گز کوئی شبہ نہیں کہ احادیث میں پتھر یا لکڑی وغیرہ کے بت بنانے یا کاغذ اور کپڑے وغیرہ پر بتوں کی تصویر میں بنانے کی سخت حرمت بیان ہوئی ہے۔اور اگر اس قسم کی تصویر بنانے کا سوال ہوتا تو میں بلا تامل کہتا کہ وہ جائز نہیں۔لیکن ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ بت بنانا یا بت کی تصویر بنانا اور چیز ہے اور فوٹوا تا رنا یا فوٹو اتر وانا بالکل اور چیز ہے۔ان دونوں چیزوں میں ایسا بد یہی فرق ہے کہ کوئی عظمند اس سے انکار نہیں کر سکتا۔بت بنانے یا بتوں کی تصویر بنانے کا کام وہی شخص کر سکتا ہے۔جو یا تو بتوں کو پوجتا ہو یا اس کی یہ غرض ہو کہ دوسرے لوگ انہیں پوجیں۔یقیناً ایسا شخص اپنے ہاتھ سے تصویر کشی یا سنگ تراشی کے ذریعہ شرک کی اشاعت میں مدد دیتا ہے۔لیکن فوٹو نیچر کا ایک حکیمانہ فعل ہے جو سائنس کے طبعی طریق پر کھینچا جاتا ہے۔اور اس کے تیار کرنے میں کسی انسان کا اس رنگ میں دخل نہیں ہوتا جس طرح کہ بت بنانے یا بتوں کی تصویر بنانے میں اس کا دخل ہوتا ہے۔پس خدا کے ایک لطیف قانون کو جو اس نے فوٹو گرافی کے رنگ میں نیچر کے اندر ودیعت کر رکھا ہے ، بت تراشی یا تصویر کشی کے ساتھ مخلوط کرنا ہرگز درست نہیں۔فوٹو کا عمل