مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 334 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 334

مضامین بشیر ۳۳۴ بت تراشی یا تصویر کشی سے بالکل جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے۔اور یہ دونوں کسی صورت میں بھی ایک حکم کے ماتحت نہیں سمجھے جا سکتے۔اگر اس قسم کے طبعی طریق پر تصویر بنانا منع ہو تو پھر آئینہ دیکھنا بھی منع ہوگا۔کیونکہ اس کے سامنے آنے سے بھی ایک بہت عمدہ تصویر بنتی ہے۔اور کسی شفاف جھیل یا چشمہ کے پاس کھڑا ہونا بھی منع ہوگا کیونکہ اس میں بھی انسانی تصویر منعکس ہو جاتی ہے۔مگر آج تک کسی عالم یا کسی مفتی نے ان چیزوں کو منع قرار نہیں دیا۔حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آئینہ موجود تھا اور آپ کے وقت میں بھی چشمے اور جھیلوں کے پانی ہوتے تھے۔مگر آپ نے کبھی ان چیزوں کے سامنے آنے سے نہیں روکا۔جس سے ثابت ہوا کہ طبعی طور پر کسی تصویر کا بن جانا اس حکم امتناعی کی زد میں نہیں آتا۔جس کی رو سے ہاتھ سے بت بنانا یا بتوں کی تصویر کھینچنا منع کیا گیا ہے۔یہ عذر درست نہیں ہوگا کہ شیشہ یا پانی میں محض ایک عارضی تصویر تیار ہوتی ہے اور جو تصویر فوٹو کے ذریعہ بنتی ہے وہ مستقل ہوتی ہے۔کیونکہ اول تو حقیقتاً دنیا میں مستقل چیز کوئی بھی نہیں۔صرف درجہ کا فرق ہے کہ کوئی چیز تھوڑی دیر رہتی ہے اور کوئی چیز زیادہ دیر۔علاوہ ازیں اصل سوال اصول کا ہے نہ کہ مستقل یا غیر مستقل کا ؟ پس جب کہ تصویر ہر حال میں منع ہے اور جبکہ آئینہ بھی ایک تصویر بناتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے نا جائز قرار نہ دیا جائے۔لہذا ثابت ہوا کہ شریعت نے مشرکوں کے ہاتھ کے نا پاک فعل اور سائنس کے طبعی اور مفید نتائج میں فرق ملحوظ رکھا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اگر شرک مقصود نہ ہو تو ایک طرح بتوں کے رنگ میں کوئی چیز تیار کرنا بھی اسلام میں منع نہیں ہے۔مثلاً احادیث اور تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب لڑکیوں میں گڑیوں کے کھیل کا عام رواج تھا۔حتی کہ تاریخ میں آتا ہے کہ جب حضرت عائشہ کی شادی ہوئی تو چونکہ ان کی عمرا بھی چھوٹی تھی تو ان کی تفریح کے لئے ان کے ساتھ چند گڑیاں بھی بھجوائی گئیں اور وہ کبھی کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان میں ان گڑیوں سے اپنا دل بہلا لیا کرتیں تھیں۔چنا نچہ صحیح مسلم میں آتا ہے کہ : كنت العب بالبنات في بيته ومن اللعب۔۹۸ یعنی ( حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کبھی کبھی گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی، پس جب معصوم نیت کے ساتھ جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہوگڑیا تک بنانی جائز ہے۔جو عملاً ایک بت ہوتی ہے اور بتوں کے رنگ میں ہاتھ سے بنائی جاتی ہے تو ایک قدرتی اور طبعی طریق پر فوٹو اتارنا کیوں جائز نہیں سمجھا جا سکتا۔بات یہ ہے کہ فوٹو کو حرام قرار دینا صرف موجودہ زمانہ کے تنگ نظر