مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 288 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 288

مضامین بشیر ۲۸۸ بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ ہمیں اپنی خاص ضرورتوں کی دعاؤں کے علاوہ کون کون سی اصولی دعائیں کرنی چاہئے۔جن کا روزانہ التزام ہماری ذاتی اور خاندانی اور دینی تعلق کے لئے ضروری ہے مگر اس جگہ بھی میں ایک مختصر تمہید کے طور پر تین اصولی باتیں بیان کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں کیونکہ ان کے بغیر دعاؤں کا مضمون سمجھنا مشکل ہے۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔۱۶۶ قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ یعنی اے رسول لوگوں سے کہہ دے کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوں تو خدا تعالیٰ تمہاری کیا پر وا کرتا ہے۔اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ دعا ہی وہ سب سے زیادہ ضروری اور پختہ زنجیر ہے جو انسان کو خدا کیساتھ ملاتی اور اس کی رحمت کی جاذب بناتی ہے۔چنانچہ اس آیت کی تشریح میں آنحضرت ﷺ 12 فرماتے ہیں۔الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ _ یعنی دعا تمام عبادتوں کی جان ہے جس طرح کہ ہڈی کی جان اس کے اندر کا گودا ہوتا ہے۔دوسری اصولی بات یہ ہے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بچے اور باعمل مومنوں کی دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے۔أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِوانِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي۔یعنی میں جو دنیا کا خالق و مالک ہوں ہر دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں مگر ضروری ہے کہ لوگ بھی میرے احکام کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں اور اس آیت کی تشریح میں آنحضرت علی فرماتے ہیں۔ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها اثم ولا قطعية رحم الأعْطَاهُ الله بها احدى ثلاث اما يجعل له دعوة۔۔۔۔۔وَإِمَّا يَدْ خِدُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ وما انيصرف عنه من السوء مثلها - 19 یعنی جب کوئی مومن مسلمان خدا سے کوئی دعا کرتا ہے تو اگر اس کی یہ دعا کسی قسم کے گناہ یا قطع رحمی کے مضمون پر مشتمل نہ ہو تو خداس کی دعا کو تین صورتوں میں سے کسی نہ کسی صورت میں ضرور قبول فرمالیتا ہے۔یعنی اول یا تو وہ اسے اسی دنیا میں ظاہری صورت میں قبول کر کے بندہ کی حاجت پوری کر دیتا ہے اور یا دوم اسے آخرت کے لئے دعا کرنے والے کے واسطے اپنے پاس ذخیرہ کر لیتا ہے اور یا سوم اگر اس دعا کو قبول کرنا کسی صورت میں بھی قرین مصلحت نہ ہو تو اس کے مقابل پر دعا کرنے والے سے کسی ملتی جلتی تکلیف یا نقص کو دور فرما دیتا ہے۔گویا ہر مومن کی دعا لازما قبول ہوتی ہے۔