مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 8 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 8

مضامین بشیر جن کے سپر دلوگوں کی اصلاح کا کام ہوتا ہے۔عموماً اسی عمر میں مبعوث کئے جاتے ہیں۔پس جماعت کی یہ تین حصوں والی تقسیم عین فطری اصولوں کے مطابق ہے۔کیونکہ اطفال کی عمر تو وہ ہے کہ جب ان کی ذمہ داریوں کا بیشتر حصہ خود ان کی اپنی تربیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور باقی چیزیں صرف زائد اور ضمنی حیثیت رکھتی ہیں۔اور انصار کی عمر وہ ہے کہ جب انسان کی ذمہ داریوں کا غالب حصہ دوسروں کی اصلاح اور تربیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اور خدام کی عمر وہ ہے جو ان دو حدوں کے درمیان وسطی حصہ ہے۔جہاں دونوں قسم کی ذمہ داریاں گویا ہموزن طور پر ملی جلی رہتی ہیں۔یعنی ایک طرف تو اپنی تربیت کا پروگرام ہوتا ہے اور دوسری طرف دوسروں کی اصلاح کا اور یہ دونوں پروگرام قریباً ایک جیسے ہی ضروری اور اہم ہوتے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ انصار اور خدام کا لائحہ عمل ایک دوسرے سے جدا ہے۔اور گو کئی باتوں میں اشتراک بھی ہے۔مگر دونوں کے کام کو ایک دوسرے پر کی صورت میں قیاس نہیں کیا جا سکتا۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم انصار اللہ کا پروگرام اس داغ بیل پر قائم کریں جو ان کے دائرہ عمل کے مطابق ہو۔دوسری بات جو انصار اللہ کے مقام ذمہ واری کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جہاں کہیں بھی ”انصار اللہ کی اصطلاح استعمال کی ہے وہاں اسے صرف جمالی نبیوں کے اصحاب کے تعلق میں استعمال کیا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن شریف نے اس اصطلاح کو یا تو حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے صحابہ کے متعلق استعمال کیا ہے اور یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کے متعلق اور ان دونبیوں کے سوا کسی اور نبی کے صحابہ کے لئے یہ اصطلاح استعمال نہیں کی گئی۔چنانچہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے: فَلَمَّا اَحَ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِى إِلَى اللهِ قَالَ الْحَوَارِثُوْنَ دا نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ أَمَنَّا بِاللهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُوْنَo یعنی ” جب حضرت عیسی نے اپنی مخاطب قوم بنی اسرائیل کی طرف سے کفر پر اصرار دیکھا تو ایک علیحدہ تنظیم کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے یہ اعلان فرمایا کہ اب میرے خدائی مشن میں کون میرا انصار بنتا ہے۔جس پر حواریوں نے لبیک کہتے ہوئے کہا کہ ہم انصار اللہ بنتے ہیں۔اور خدا کی آواز پر ایمان لاتے ہوئے آگے آتے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم آپ کے ہاتھ پر فرمانبرداری کا عہد 66 باندھتے ہیں۔“ دوسری جگہ قرآن شریف میں انصار اللہ کے الفاظ سورہ صف میں آتے ہیں۔جہاں حضرت عیسیٰ