مضامین بشیر (جلد 2) — Page 7
مضامین بشیر بچوں پر مشتمل۔انصار اللہ کا مقام ذمہ واری سالانہ اجتماع انصار الله مرکز یہ منعقده ۲۵ دسمبر ۱۹۴۵ء حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے تنظیم کی غرض سے جماعت احمدیہ کو تین قسم کے نظاموں میں منقسم فرمایا ہے یعنی اول اطفال احمدیت کا نظام جو پندرہ سال سے کم عمر کے ہے۔دوسرے خدام الاحمدیہ کا نظام جو پندرہ سال سے لے کر چالیس سال تک کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔اور تیسرے انصار اللہ کا نظام جو چالیس سال اور اس سے اوپر کے اصحاب پر مشتمل ہے۔یہ تقسیم نہایت حکیمانہ رنگ میں فطری اصولوں کے مطابق کی گئی ہے۔کیونکہ اگر ایک طرف ہمیں حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عموماً پندرہ سال سے کم عمر کے بچوں پر قومی جہاد کی شرکت کی ذمہ داری نہیں ڈالتے تھے تو دوسری طرف قرآن شریف ہمیں یہ بتاتا ہے کہ چالیس سال کی عمر انسانی قومی کے کامل نشو ونما کی عمر ہے جبکہ انسان اپنی بعض مخصوص ذمہ داریوں کے ادا کرنے کی بہترین قابلیت پیدا کرتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضُهُ۔۔۔۔۔یعنی جب ایک نیک انسان اپنے نشو و نما کی کامل پختگی کو پہنچ جاتا ہے اور چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو پھر اس کے اندر سے ایک فطری آواز بلند ہوتی ہے کہ خدایا تو نے مجھ پر کتنی نعمتیں فرمائی ہیں کہ پہلے مجھے بہترین طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا اور پھر ابتدائی عمر کے خطرات سے گزار کر پختگی کی عمر تک پہنچایا۔سواب مجھے توفیق عطا کر کہ میں تیری ان نعمتوں کا بہترین حق ادا کرسکوں۔جو تو نے مجھ پر یا میرے والدین پر کی ہیں اور مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے اعمال بجالاؤں جو تیری رضا کا موجب ہوں۔گو یا چالیس سال کی عمر انسانی قوئی کے کامل نشو ونما کی عمر قرار دی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انبیاء