مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 998 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 998

مضامین بشیر ۹۹۸ کیا ایک محکوم شخص نبی نہیں بن سکتا کیا صرف نبی کا لڑکا ہی نبوت کا انعام پاسکتا ہے؟ ایک دوست محمد منیر صاحب قلعہ گوجر سنگھ لاہور سے دریافت کرتے ہیں کہ :- (1) کوئی ایسا شخص جو کسی حکومت کا غلام ہو نبی نہیں ہو سکتا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام حکومت انگریزی کے غلام تھے پھر وہ کس طرح نبی بن گئے ؟ (۲) نبوت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لڑکوں کو ہی مل سکتی تھی لیکن آپ کا کوئی لڑکا بھی زندہ نہ رہا اس لئے کوئی اور شخص کس طرح نبی بن سکتا ہے؟ پہلے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اول تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی کے غلام نہیں تھے بلکہ صرف سیاسی لحاظ سے حکومت انگریزی کے محکوم تھے اور محکوم اور غلام میں بھاری فرق ہوتا ہے۔دوسرے یہ دعوی سراسر باطل اور بے دلیل ہے کہ ایک محکوم شخص نبی نہیں بن سکتا۔مدعی کا فرض ہے کہ پہلے اپنے دعویٰ کی دلیل پیش کرے۔اس کے بعد اس کے جواب کے مطالبہ کا حق پیدا ہوتا ہے۔تیسرے قرآن اور حدیث اور تاریخ سے ثابت ہے کہ کئی نبی ایسے گزرے ہیں جو سیاسی لحاظ سے غیر حکومتوں کے محکوم تھے مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے انہیں نبوت کے انعام سے نوازا۔مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر کے کافر بادشاہ فرعون کی رعایا تھے۔چنانچہ خود حضرت موسی فرعون سے فرماتے ہیں کہ عَبْدَتَ بَنِی اسراءیل یعنی تو نے میری قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام بھی مصر کے بادشاہ کے ماتحت تھے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ ” یعنی یوسف کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ مصر کے بادشاہ کی حکومت کے ماتحت اپنے بھائی کو اپنے پاس روک سکے مگر ہم نے خود اس کے لئے اس کام کی تدبیر پیدا کی۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام بھی فلسطین کی رومی حکومت کے ماتحت تھے۔چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں کہ جو قیصر کا ہے قیصر کو دو ( یعنی ٹیکس اور سیاسی اطاعت ) اور جو خدا کا ہے ( یعنی چندہ اور روحانی اطاعت) خدا کو ادا کرو۔پس اگر یہ انبیاء کرام ایک غیر حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے نبی بن سکتے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگریزوں کی حکومت کے اندر ط ۱۳۲