مضامین بشیر (جلد 1) — Page 66
مضامین بشیر ۶۶ لئے پانی کا لوٹا بھر کر لائے تو آپ نے دعا فرمائی کہ خدا اسے دین کا علم عطا کرے۔اور سب لوگ اس کے یہی معنی سمجھتے رہے ہیں کہ آپ نے وہیں بیٹھے بیٹھے یہ دعائیہ الفاظ اپنی زبان مبارک سے فرمائے تھے مگر ڈاکٹر صاحب کے نزدیک شاید یہ معنی ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت وضو کی تیاری چھوڑ کر کسی حجرہ میں تشریف لے گئے ہوں گے تا کہ وہاں جا کر ابن عباس کی علمی ترقی کے لئے دعا فرما ئیں۔اور جاتے ہوئے یہ فرماگئے ہوں گے میں اس غرض سے جاتا ہوں یا کوئی شخص آپ کے ساتھ ساتھ جا کر آپ کے الفاظ سنتا جاتا ہو گا تعصب کا ستیا ناس ہو یہ بھی انسان کی عقل پر کیسا پردہ ڈال دیتا ہے۔حمید ایک اعتراض ڈاکٹر صاحب موصوف کا یہ ہے کہ یہ جو لکھا گیا ہے کہ منگل کا منحوس اثر صرف دنیا او راہل دنیا کے لئے ہے اور آخرت والوں پر اس کا اثر مبارک پڑ رہا ہے۔یہ فضول بات ہے گویا اگر کچھ اثر ہے تو سب طرف ایک سا اثر ہونا چاہیئے اور اس تفریق کی کوئی وجہ نہیں۔اس اعتراض کے جواب سے پہلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ڈاکٹر صاحب کا سراسر ظلم ہے کہ وہ بار بار میری طرف یہ منسوب کر رہے ہیں کہ گویا میرے نزدیک منگل منحوس دن ہے۔میں نے ایسا بالکل نہیں لکھا۔اور مجھے ڈاکٹر صاحب کی جرات پر حیرت ہے کہ کس دلیری کے ساتھ وہ میری طرف ایسی بات منسوب کرتے جاتے ہیں جس کا نام و نشان تک میری تقریر وتحریر میں موجود نہیں۔بلکہ اگر ڈاکٹر صاحب میری بات کا یقین کر سکیں تو میں یہ کہوں گا کہ جو کبھی میرے وہم وگمان میں بھی نہیں آئی میں نے صرف یہ لکھا تھا کہ حضرت صاحب منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دوسرے ایام کے مقابلہ میں اپنے افاضہ برکات کے لحاظ سے کم ہے اور نیز یہ کہ اس کا اثر شدائد اور تختی وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔لیکن ڈاکٹر صاحب نہ معلوم کن مخفی اثرات سے متاثر ہوکر میری طرف اپنے مضمون میں بار بار یہی خیال منسوب کرتے جاتے ہیں کہ میں منگل کو ایک منحوس دن سمجھتا ہوں۔دراصل ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ہندو لوگ عموماً منگل کو منحوس سمجھتے ہیں۔اس لئے ڈاکٹر صاحب نے ان سے متاثر ہو کر بلا سوچے سمجھے میری طرف بھی یہی عقیدہ منسوب کر دیا ہے۔حالانکہ نہ میں نے ایسا لکھا اور نہ میرے خیال میں کبھی یہ بات آئی۔باقی رہا اصل معاملہ یعنی ڈاکٹر صاحب کا یہ اعتراض کہ یہ جو میں نے لکھا ہے۔کہ گویا دنوں وغیرہ کی شمار اہل دنیا کے واسطے ہے۔آخرت پر اس کا اثر نہیں ، یہ غلط ہے۔سو اس کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے پوری طرح میری بات پر غور نہیں فرمایا۔میر امنشاء یہ تھا کہ ہر ایک چیز کا ایک معتین حلقہ اثر ہوتا ہے جس کے اندراندراس مطبوعہ الفضل ۱۶ جولائی ۱۹۲۶ء