مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 65 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 65

مضامین بشیر ہونے لگیں تو حضرت مسیح موعود نے دعا فرمائی تھی کہ خدا اسے منگل کے اثر سے محفوظ رکھے۔اب بات صاف تھی اور ڈاکٹر صاحب بھی اسے بڑی آسانی سے سمجھ سکتے تھے کہ حضرت صاحب نے اسی وقت گھر کی مجلس میں یہ دعائیہ الفاظ اپنی زبان سے فرما دیئے ہوں گے۔اور بس۔یعنی جب ولادت کا وقت ہوا تو حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر کہ منگل کا دن ہے اس مفہوم کے دعائیہ الفاظ فرمائے کہ خدا تعالیٰ بچہ کو منگل کے خراب اثر سے محفوظ رکھے۔اب اس صاف حقیقت کو چھوڑ کر بات کا بتنگڑ بنا دینا کہ گویا حضرت مسیح موعود اس امر کے لئے خاص طور پر دعا کرنے کے واسطے کسی علیحدہ جگہ میں تشریف لے گئے ہوں گے اور جاتے ہوئے یہ فرماگئے ہوں گے کہ میں فلاں امر کے لئے دعا کرنے جاتا ہوں یا کوئی شخص خود بخود آپ کے پیچھے پیچھے جا کر آپ کے الفاظ سنتا گیا ہوگا وغیرہ وغیرہ یہ سب باتیں ڈاکٹر صاحب کے دماغی تخیلات کا نتیجہ ہیں جن کا کہ قطعاً کوئی ذکر صراحتہ یا کنا یہ روایت میں موجود نہیں ہے۔افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک معمولی سی بات کو بڑا بنا دیا ہے۔منگل کا اچھا یا برا ہونا کوئی اہم دینی امور میں سے نہیں ہے کہ جس پر ڈاکٹر صاحب اسقدر چیں بجیں ہوتے۔دنیا کی ہر چیز ا چھے اور برے پہلو رکھتی ہے اور اشیاء کی برکات میں تفاوت بھی مسلم ہے۔پھر ایک معمولی سی بات کو لے کر اس پر اعتراضات جماتے چلے جانا گویا کہ وہ نہایت اہم امور میں سے ہے۔کہاں کا انصاف ہے اور پھر زیادہ افسوس یہ ہے کہ اپنی طرف سے ایسی باتیں فرض کر لی گئی ہیں کہ جن کا روایت کے اندر نام ونشان تک نہیں ایک سرسری بات تھی کہ مبارکہ بیگم کی ولادت پر حضرت صاحب نے دعا فرمائی کہ وہ منگل کے خراب اثر سے محفوظ رہے۔جس کا منشاء صرف یہ تھا کہ اسوقت گھر کی مجلس میں حضرت صاحب نے اپنی زبان مبارک سے اس قسم کے دعائیہ الفاظ فرمائے۔اس پر یہ فرض کر لینا کہ حضرت صاحب نے ایک خاص اہتمام کے ساتھ کسی تنہائی کی جگہ میں جا کر یہ دعا فرمائی ہوگی اور پھر اس فرضی واقعہ پر یہ سوال کرنا کہ کیا آپ جاتے ہوئے یہ فرما گئے تھے کہ میں اس غرض سے جا تا ہوں یا یہ کہ کوئی شخص آپ کے ساتھ ساتھ جا کر آپ کے الفاظ سنتا جاتا تھا۔امانت و دیانت کا خون کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے شاید یہ سمجھ رکھا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے۔کہ وہ کسی خاص اہتمام کے ساتھ کسی علیحدہ جگہ میں جا کر کی جائے یا یہ کہ وہ اتنی لمبی ہو کہ کسی دوسرے شخص کو دعا کرنے والے کے ساتھ ساتھ رہ کر اس کے الفاظ سنے کا موقع مل سکے۔مکرم ڈاکٹر صاحب ممکن ہے کہ آپ کی ساری دعائیں اسی شان کی ہوتی ہوں مگر میں تو دیکھتا ہوں کہ دعا کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔اور اگر کسی علیحدہ جگہ میں جا کر لمبی دعا کرنا دعا کہلاتی ہے تو کسی بات کے پیش آنے پر اسی جگہ بیٹھے بیٹھے یا کھڑے کھڑے دعائیہ الفاظ کہہ دینا بھی دعا ہی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ابن عباس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کے