مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 596 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 596

مضامین بشیر ۵۹۶ عبادتوں کو ایک خاص حکیمانہ انداز میں جمع کر دیا ہے۔مثلاً صوم کے علاوہ جو رمضان کا اصل مقصود ہے روزہ میں تراویح اور مخصوص قیام اللیل کے ذریعہ نماز کے عصر کو نمایاں طور پر شامل کر دیا گیا ہے۔اسی طرح صدقۃ الفطر اور عام صدقات کی کثرت کے ذریعہ زکوۃ کے عنصر کو بڑھا دیا گیا ہے۔اور پھر اعتکاف کے ذریعہ گویا حج کی روح کا خمیر لے لیا گیا ہے کیونکہ حج اور اعتکاف میں ایک گہری مناسبت ہے جو کسی غور کرنے والے پر مخفی نہیں رہ سکتی (۳) روزہ کو شہادت کے عمل سے بھی بہت مشابہت ہے کیونکہ جس طرح ایک شہید خدا کے سامنے اپنی زندگی کا ہدیہ پیش کرتا ہے۔اسی طرح ایک سچا روزہ دار خدا کی خاطر نہ صرف اپنی انفرادی زندگی کو بلکہ اپنی نسل کے سوتوں کو بھی کاٹتے ہوئے خدا کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔کہ اے خدا میں تیرے لئے اپنی ظاہری زندگی کے سہاروں ( طعام وشراب ) اور اپنے نسلی بقا ( ملامست ازواج ) سے کنارہ کش ہوتا ہوں اور یہی شہادت کی روح ہے۔(N) قرآن شریف میں روزہ کے فضائل اور اغراض و مقاصد بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض یہ ہیں :- (الف) سب سے پہلے خود رمضان کا نام ہے جو اسلام کا جاری کردہ ہے کیونکہ اسلام سے قبل رمضان کے مہینہ کا نام ناتق ہوا کرتا تھا جسے بدل کر رمضان کر دیا گیا۔اور چونکہ لفظ رمضان کے معنے گرم ہونے اور تپنے یا شدت پیاس سے جلنے کے ہیں! اس لئے اس انتخاب میں یہ اشارہ ہے کہ یہ عبادت مسلمانوں کے دلوں میں خدا کی محبت کی گرمی پیدا کرنے کے لئے مقرر کی گئی ہے یا یہ کہ روزہ مسلمانوں کے دلوں میں خدا کے قرب کی پیاس کو تیز کرتا ہے۔وغیر ذالک (ب) اس کے بعد صوم اور صیام کا لفظ ہے جو اسلام نے روزہ کی عبادت کے لئے اختیار کیا ہے اس کے معنی کسی چیز سے رُکے رہنے یا پیچھے ہٹنے یا کھانے پینے سے پر ہیز کرنے کے ہیں۔اس میں ضبط نفس اور محرمات سے اجتناب کی غرض کی طرف اشارہ ہے۔یعنی روزہ انسان کے اندر ضبط نفس کا مادہ پیدا کرتا ہے اور بدیوں سے رُکنے کی طاقت کو بڑھاتا ہے۔اسی لئے حدیث میں شہر رمضان کا دوسرا نام شہر صبر بھی آتا ہے۔(ج) اوپر کے دو الفاظ کے اجمالی اشارہ کے علاوہ قرآن شریف نے صراحتاً بھی روزہ کی بعض خاص اغراض بیان فرمائی ہیں۔مثلا فرماتا ہے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ یعنی روزہ کی عبادت اس لئے فرض کی