مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 597 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 597

۵۹۷ مضامین بشیر گئی ہے کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوا اور تقویٰ کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ ایک طرف تو تمہیں ہر بات میں خدا کو اپنے ساتھ ڈھال کی طرح چمٹائے رکھنے کی عادت ہو جائے ، دوسرے تم لوگوں کے خلاف ظلم و دست درازی سے مجتنب رہ سکو کہ یہی تقوی کے دو مرکزی مقاصد ہیں۔(د) ایک غرض روزہ کی قرآن شریف یہ بیان کرتا ہے کہ اِنِّی قَرِيبٌ یعنی اس ذریعہ سے انسان خدا کا قرب حاصل کرتا ہے۔یا زیادہ صحیح طور پر یوں کہنا چاہیئے کہ روزوں کے نتیجہ میں خدا اپنے بندے کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔اور یہی انسان کی زندگی کا اولین مقصد ہے۔3- - (ھ) پانچویں بات قرآن شریف یہ فرماتا ہے کہ اُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ اس یعنی خدا فرماتا ہے میں روزہ رکھنے والوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہوں۔یعنی گو آگے پیچھے بھی میں اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہوں لیکن روزہ میں میری اس رحمت کا دروازہ بہت زیادہ وسیع ہو جاتا ہے اور اگر اس کے یہ معنی کئے جائیں کہ روزہ میں انسان کی ساری ہی دعائیں قبول ہو جاتی ہیں تو پھر بھی یہ غلط نہیں ہو گا۔کیونکہ حدیث میں صراحت سے آتا ہے کہ ایک مومن کی دعا تین طرح قبولیت کو پہنچتی ہے۔اول یا تو خدا اسے اسی صورت میں کہ جس صورت میں وہ مانگی جاتی ہے قبول کر لیتا ہے۔دوسرے یا اگر اس کا اسی صورت میں قبول کرنا خدا کی کسی سنت یا مصلحت کے خلاف ہوتا ہے یا خود دعا کرنے والے کے حقیقی مقاصد کے خلاف ہوتا ہے۔تو پھر خدا اس کے عوض میں دعا کرنے والے سے کسی مناسب حال بدی اور شر کو ٹال دیتا ہے اور تیسرے یا آخرت میں اس دعا کا بہتر ثمرہ پیدا کر کے بندے کی تلافی کر دیتا ہے۔اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ دراصل کوئی سچی دعا بھی ضائع نہیں جاتی۔پس روزہ کو دعاؤں کی قبولیت سے خاص تعلق ہے۔اور اسی لئے اہل اللہ کا طریق رہا ہے کہ جب کوئی خاص دعا کرنی ہو تو اس دن روزہ رکھ کر دعا کرتے ہیں اور یہ ایک بہت آزمایا ہوا طریق ہے۔(۵) حدیث نے روزہ کے برکات اور فوائد میں دو نہایت لطیف باتیں بیان کی ہیں۔اوّل: حدیث میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوسری عبادتوں کی جزا ئیں تو اور اور مقرر ہیں مگر روزہ کی جزا خود میں ہوں ۲ سے یہ وہی لطیف مفہوم ہے جو قر آنی الفاظ انـی قــریــب میں بیان ہوا ہے۔یعنی جب بندہ روزہ رکھ کر اپنے آپ کو خدا کے لئے مٹاتا ہے تو ہمارا رحیم وکریم خدا اس کے بدلہ میں خود اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔کہ اے میرے لئے مٹنے والے تیرے عمل کا