مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 595 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 595

۵۹۵ مضامین بشیر رمضان کا مبارک مہینہ اس سال میں نے شروع رمضان سے ہی ارادہ کیا تھا کہ اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو اپنے نفس کی اصلاح اور دوستوں کے فائدہ کی خاطر رمضان کی برکات کے متعلق ایک مضمون لکھ کر ” الفضل میں شائع کروں گا۔اور اس کے لئے میں نے چند نوٹ قلم برداشتہ طور پر لکھ لئے تھے کہ پھر بیماری نے ایسا گھیرا کہ اب تک اس کے پنجہ سے نجات حاصل نہیں ہوئی۔گوشکر ہے کہ اس شدید حملہ سے جو گذشتہ چند ایام میں درد گردہ اور قولنج کی صورت میں ظاہر ہوا۔اور جس نے مجھے چند دن تک انتہائی تکلیف میں مبتلا رکھا۔اب صحت کی صورت پیدا ہو چکی ہے۔فالحمد للہ علی ذالک اب رمضان کے اختتام کی وجہ سے مفصل مضمون شائع کرنے کا موقع تو نہیں رہا لیکن ثواب کی خاطر سے میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اپنے نوٹوں کو ہی مناسب صورت دے کر شائع کر دوں تا اگر خدا چاہے تو وہ اس سال میری روزوں سے محرومی کا کفارہ ہو جائے۔اور شائد اس آخری وقت میں ہی ان کی وجہ سے کسی دوست کو خاص دعا اور خاص عمل کی توفیق مل جائے جو جماعت کے روحانی اموال میں اضافہ کا باعث ہو۔وانما الاعمال بالنيات ولكل امرئ ما نوى وماتوفيقى الا بالله (1) گو اسلام میں ہر عمل جو خدا کی رضا کی خاطر کیا جائے عبادت کا رنگ رکھتا ہے خواہ بظاہر وہ ایک بالکل ہی دنیوی فعل ہو۔مگر روزہ ان چار خاص عبادتوں میں سے ایک ہے جو اسلام میں گویا انسانی اعمال کے لئے بطورستون کے قرار دی گئی ہیں۔اور ان چار عبادتوں ( نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ ) میں سے ہر عبادت اپنی ایک خاص غرض و غایت رکھتی ہے۔خواہ وہ حقوق اللہ سے متعلق ہو یا حقوق العباد سے۔اور ان میں صیام یعنی روزہ کو یہ مزید خصوصیت حاصل ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں سے یکساں تعلق رکھتا ہے۔اور دونوں باغوں کی ایک سی آبپاشی کرتا ہے۔(۲) روزہ کو ایک خصوصیت یہ بھی حاصل ہے کہ اس کے اندر خدائے حکیم نے اسلام کی جملہ بنیادی