مضامین بشیر (جلد 1) — Page 578
مضامین بشیر ۵۷۸ تھا۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے انہیں یہ حدیث سنائی کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کے ایک صحابی نے قیامت کے متعلق کوئی سوال کیا۔جس پر آپ نے فرمایا کہ تم قیامت کے متعلق پوچھتے ہو۔کیا اس کے لئے تم نے کوئی تیاری بھی کی ہے؟ اس نے جواب دیا۔یا رسول اللہ اگر تیاری سے نماز روزہ وغیرہ مراد ہے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ہاں میں یہ جانتا ہوں کہ میں اپنے دل میں خدا اور اس کے رسول کی سچی محبت رکھتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر یہ درست ہے تو میں تمہیں خوش خبری دیتا ہوں کہ الْمَرُءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ ۲۹ یعنی انسان اپنی محبوب ہستیوں سے جدا نہیں کیا جائے گا۔میں نے دیکھا کہ جب میں نے ہمشیرہ مرحومہ کو یہ حدیث سنائی تو ان کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا اور وہ بے ساختہ کہنے لگیں کہ میں بھی اپنے دل کو ایسا ہی پاتی ہوں۔میں نے کہا کہ پھر آپ کو بھی رسول خدا کی یہ خوشخبری مبارک ہو کہ آپ اپنی محبوب ہستیوں کے ساتھ جگہ پائیں گی۔چنانچہ ان کے انجام نے بتا دیا کہ خدا کے فضل و رحم سے ایسا ہی ہوا۔واقعی مرحومہ کو خدا اور اس کے رسول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پھر اپنے سرتاج حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ساتھ بے حد محبت تھی۔میں نے ان کے اس پاک جذبہ کو مختلف رنگوں میں اور مختلف موقعوں پر اور مختلف زمانوں میں ایسے کامل یقین کے ساتھ محسوس کیا ہے۔کہ اس میں قطعاً کسی شک کی گنجائش نہیں۔واللہ علیٰ ما اقول شهيد۔شریعت اسلامی کے مطابق نوافل بجالانے کی طرف بھی مرحومہ کو بہت توجہ تھی۔چنانچہ با وجود اس کے کہ عورتوں کے لئے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا فرض نہیں ہے۔میں نے گزشتہ سال موسم گرما میں دیکھا کہ وہ ایک لمبے عرصہ تک گھر کی لڑکیوں اور دوسری مستورات کو ساتھ لے کر اور خودان کی امام بن کر انہیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھایا کرتی تھیں اور جہری قرآت والی نمازوں میں بلند اور پُر سوز آواز سے قرآن شریف پڑھتی تھیں۔مجھے یہ نظارہ دیکھنے کا اس طرح موقع ملا کہ جب میں اپنے گھر سے مسجد کی طرف نماز کے لئے جاتا تو میرا راستہ ان کے صحن کے پاس سے گزرتا تھا۔اور میں نے انہیں بارہا ان کے صحن میں لڑکیوں کو نماز پڑھاتے دیکھا۔اور حضرت خلیفتہ امیج ایدہ اللہ کی قرآت سننے کا تو انہیں اتنا شوق تھا کہ میری ہمشیرہ نے مجھے بتایا کہ وہ کہا کرتی تھی کہ اگر حضرت صاحب سارا دن قرآن شریف پڑھتے رہیں تو میں اس کے سننے سے بہت تھکوں۔اسی ضمن میں مجھے ہمشیرہ مرحومہ کا ایک اور دلچسپ واقعہ بھی یاد آیا۔کوئی ڈیڑھ سال کی بات ہے کہ ایک دفعہ شام کے قریب ہمشیرہ مرحومہ ان سیڑھیوں کے اوپر کے حصہ پر آ کر بیٹھ گئیں جو میرے مکان کے حصہ میں اترتی ہیں اور مجھے بلا کر فرمانے لگیں کہ میں آپ سے ایک بات کہتی ہوں مگر وعدہ