مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 579 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 579

۵۷۹ مضامین بشیر کریں کہ انکار نہیں کریں گے۔میں نے کہا میں نے پہلے کب کسی بات کا انکار کیا ہے کہ اب آپ وعدہ لیتی ہیں۔کہنے لگیں نہیں پہلے وعدہ کریں تو پھر بتاؤں گی۔میں نے کہا اگر کر سکنے کی ہوئی تو انشاء اللہ ضرور کروں گا۔فرمانے لگیں کہ آپ کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کافی تبرک ہیں اور میرے پاس کوئی نہیں اور مجھے بے حد تڑپ ہے کہ میرے پاس بھی کوئی تبرک ہو۔میں نے کہا میں نے آج تک اپنے تبرکات کو محفوظ رکھا ہوا ہے لیکن انشاء اللہ آپ کو ضرور دوں گا۔پھر میں تھوڑی دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ٹھنڈا کرتا ، چند بال اور ایک حضور کے ہاتھ کی لکھی ہوئی دستی تحریر لے کر گیا۔جسے لے کر بے حد خوش ہوئیں۔اور بڑی دیر تک ان تبرکات کو اپنے سینہ کے ساتھ لگائے رکھا اور مجھے بھی دعائیں دیتی رہیں۔اولاد کی محبت و خیر خواہی اولاد کی محبت اور خیر خواہی انسان کی فطرت کا حصہ ہے اور کوئی والدین اس جذبہ سے خالی نہیں ہوتے مگر اس میں بھی مدارج کا سلسلہ چلتا ہے۔ہماری مرحومہ بہن اس جذ بہ میں بھی غیر معمولی شان رکھتی تھیں۔انہیں اپنی اولاد کی بہتری اور بہبودی اور اس سے بڑھ کر ان کی دینداری کا بے حد خیال رہتا تھا۔اور وہ ان کے واسطے نہ صرف خود بے انتہا دعائیں کرتی تھیں بلکہ دوسروں کو بھی کثرت کے ساتھ تحریک کرتی رہتی تھیں۔پھر اولاد کے ساتھ ان کی محبت کا رنگ بھی نرالا تھا۔جو حجاب بسا اوقات والدین اور اولاد کے درمیان ادب عمر کے فرق وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے۔وہ ان میں اور ان کی اولاد میں بہت کم پایا جاتا تھا۔کیونکہ ان کی عادت تھی کہ بچوں کو بے تکلف عزیزوں کی طرح اپنے ساتھ لگائے رکھتی تھی۔بایں ہمہ ان کے بچوں میں (خدا انہیں دین ودنیا کی اعلیٰ ترین حسنات سے متمتع فرمائے آمین ) اپنی محترم والدہ صاحبہ کا بے حد ادب تھا۔اور وہ اپنی والدہ کے لئے حقیقہ قرۃ العین تھے۔جیسا کہ احباب کو علم ہے۔مرحومہ نے اپنے پیچھے تین لڑکیاں چھوڑی ہیں اور ایک لڑکا۔لڑکے کے اکیلا ہونے کا مرحومہ کو بہت احساس تھا اور وہ اس بات کے لئے ہمیشہ خاص دعائیں کرتیں اور کرواتی رہتی تھیں کہ ان کا لڑکا جس کا نام طاہر احمد ہے دین و دنیا کی اعلیٰ ترین ترقیاں حاصل کرے اور اس کی تربیت کا خاص خیال رکھتی تھیں۔جب میں ان کی بیماری میں آخری دفعہ لاہور گیا ( یعنی ان کی وفات والی دفعہ سے پہلے ) تو جب میں واپسی پر انہیں رخصت کا سلام کہنے کے لئے ان کے کمرہ میں گیا۔اور میں نے ان سے ذکر کیا کہ طاہر احمد کا امتحان ہونے والا ہے۔اس لئے میں واپس جاتا ہوں تو انہوں نے مجھے تاکید کے ساتھ کہا کہ ہاں آپ ضرور جائیں اور طاہر کا خیال رکھیں اور پھر یہ خیال کر کے کہ شاید ان کی بیماری