مضامین بشیر (جلد 1) — Page 577
۵۷۷ مضامین بشیر کر کے یا اس اندیشے سے کہیں ہماری سفارش غلط نہ ہو حضرت صاحب تک معاملات پہنچانے میں اکثر حجاب اور تامل کرتی تھیں، وہاں یہ خدا کی بندی جب کسی شخص کو واقعی قابل امداد خیال کرتی تھیں تو بلا تامل حضور تک معاملہ پہنچا دیتی تھیں اور پھر اس کا پیچھا بھی کرتی تھیں۔بے شک وہ بعض اوقات غلطی سے محبت کی ” جھاڑ بھی کھا لیتی تھیں مگر پھر بھی کسی موقع پر چوکتی نہیں تھیں اور اپنا فرض برابر ادا کئے جاتی تھیں۔اسی لئے غریب عورتیں بلکہ غریب مرد بھی انہیں اپنا سچا مربی خیال کرتے تھے۔اور ہر تکلیف کے وقت ان کے دروازہ کی طرف دوڑتے تھے۔اور وہ بھی سب کے ساتھ انتہائی محبت اور انتہائی شفقت کے ساتھ پیش آتی تھیں۔سیدہ موصوفہ نے کئی یتیم بچوں اور بچیوں کو اپنے ساتھ رکھ کر اپنے گھر میں پالا اور ہمیشہ اپنے بچوں کی طرح سلوک کیا اور ان کے دُکھ کو اپنا دُ کھ اور ان کی راحت کو اپنی راحت سمجھا۔غریبوں کی دلداری کا اس رنگ میں بھی مرحومہ کو خاص خیال تھا کہ ان کی خوشیوں میں اپنے عزیزوں کی طرح شریک ہوتی تھیں۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ جب سیدہ موصوفہ کسی سفر وغیرہ میں ہوتی تھیں تو کئی لوگ اپنے عزیزوں کی شادی کو صرف اس غرض سے ملتوی کر دیتے تھے کہ آپا جان واپس آئیں گی تو پھر ان کے سامنے شادی کریں گے۔الغرض مرحومہ حقیقی معنوں میں غریبوں کی دوست اور یتیموں کی ماں تھیں۔مجھے وہ واقعہ غالباً کبھی نہیں بھولے گا کہ جب حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات ہوئی تو اُس دن میں نے دیکھا کہ ایک غریب مہاجر بہشتی مقبرہ کی سڑک پر رورہا تھا۔اور جب میں اس کے پاس سے گذرا اور اس کی طرف نظر اٹھائی تو اس نے مجھے سسکیاں لیتے ہوئے کہا کہ آج غریب بالکل یتیم ہو گئے۔پھر کہنے لگا کہ بارہ دن پہلے غریب کی ماں گزر گئی تھی آج باپ بھی رخصت ہوا۔اس کا اشارہ سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ کی اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی طرف تھا۔میں نے دل میں کہا کہ گو اصل یتیم اور غیر یتیم تو خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنے یا نہ رکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔اور جس کا خدا زندہ ہے اور اس کا اس سے تعلق ہے وہ کبھی بھی یتیم نہیں ہو سکتا۔مگر اس غریب مہاجر کا کہنا بھی اپنے رنگ میں درست ہے کہ ان دو او پر تلے کی موتوں نے قادیان کے غریبوں کے دو بڑے اور ظاہری سہارے ان سے چھین لئے ہیں اور میں نے دعا کی کہ خدا تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے نعم البدل عطا کرے تا کہ ان دکھے ہوئے دلوں کی تسکین اور راحت کا سامان پیدا ہو۔امین یا ارحم الراحمین خدا اور اس کے رسول کی محبت جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہمشیرہ مرحومہ میں خدا اور اس کے رسول کی محبت کا جذ بہ بھی بہت غالب