مضامین بشیر (جلد 1) — Page 566
مضامین بشیر کے سوا کوئی اور فقرہ نہیں آ سکتا کہ :- بلانے والا ہے اُسی ނ پیارا اے دل تو جاں فدا کر یہ وہی تسکین وہ سبق ہے جو قرآنی آیت انا للہ وانا اليه راجعون میں سکھایا گیا ہے۔یعنی ہم سب خدا کی امانت ہیں اور ہم سب نے آگے پیچھے اسی کے پاس جمع ہونا ہے۔راحت بخش آسمانی مرهم اور پھر یہی وہ راحت بخش مرہم کا چھا یہ ہے جو ہمارے آسمانی آقا نے زمین والوں کے دُکھتے ہوئے دلوں کے لئے ان پیارے الفاظ میں پیش کیا ہے کہ : - الا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ۲۲ یعنی اے مومنو تمہیں دنیا میں مختلف قسم کے رنج و غم پیش آسکتے ہیں جو بعض اوقات اس شدت کے ساتھ آتے ہیں کہ تمہاری ہستی کو اس کی بنیادوں سے ہلا دیتے ہیں مگر تم ایسے اوقات میں بھی گھبرانا نہیں اور اپنے خدا کو بھول نہ جانا بلکہ اسے اور بھی زیادہ یا د رکھنا۔کیونکہ رنج کی تاریک گھڑیوں میں اسی کی پیاری یا دتمہارے دل کے لئے حقیقی تسکین کا باعث ہو سکتی ہے۔واقعی اگر جیسا کہ ہم دعوی کرتے ہیں۔ہمارا خدا بیچ بیچ سب پیاروں سے زیادہ پیارا اور سب سہاروں سے بڑا سہارا ہے۔اور اگر جیسا کہ ہمارا ایمان ہے وہ حقیقہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم اور حی و قیوم قادر مطلق خدا ہے۔تو پھر اس میں کیا شک ہے کہ تکلیف واضطراب کے وقتوں میں صرف اسی کا ذکر اور اسی کا تعلق ہی انسان کے لئے طمانیت قلب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔اسی لئے میں نے اپنے اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان سکینت بخش الفاظ سے شروع کیا ہے کہ : - بلانے والا ہے اسی : ایک اور نا گہانی حادثہ ހނ پیارا اے دل تو جاں فدا کر میں اس قدر مضمون لکھ چکا تھا کہ اچانک ہمارے چھوٹے ماموں حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات کا نا گہانی حادثہ پیش آ گیا۔جس کے نتیجہ میں یہ مضمون کئی دن تک رُکا رہا۔حضرت میر محمد