مضامین بشیر (جلد 1) — Page 567
مضامین بشیر اسحاق صاحب مرحوم کی زندگی اور وفات کو کئی لحاظ سے ہماری مرحومہ بہن سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ کی زندگی اور وفات کے ساتھ مشابہت و مماثلت حاصل ہے۔جسے میں اپنے اس مضمون میں جو میں انشاء اللہ عنقریب حضرت میر صاحب مرحوم کے متعلق لکھوں گا بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔فی الحال میں ایک بیحد زخمی مگر اپنے خدا کی طرف سے مرہم یافتہ دل کے ساتھ اپنے موجودہ مضمون کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔وماتوفیقی الا بالله القدير) سیدہ ام طاہر احمد پیدائشی احمدی تھیں ہمشیرہ سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ جو حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب مرحوم کی سب سے چھوٹی لڑکی تھیں غالبا 1909 ء کے شروع میں پیدا ہوئی تھیں اور چونکہ ان کی پیدائش سے تین چار سال قبل حضرت شاہ صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں منسلک ہو چکے تھے اس لئے ہمشیرہ مرحومہ گویا پیدائشی احمدی تھیں۔یعنی انہوں نے اس دنیا میں اپنی زندگی کا پہلا سانس احمدیت ہی کی مبارک فضا میں لیا تھا اور گو وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں حتی کہ انہوں نے اپنی ایک بڑی بہن ( والدہ صاحبہ سید بشیر شاہ ) کا دودھ بھی پیا ہوا تھا۔اور خدا کے فضل سے اس وقت تک ان کے سب بہن بھائی زندہ موجود ہیں۔مگر یہ ایک عجیب کرشمہ قدرت ہے کہ عمر میں سب سے چھوٹی ہونے کے باوجود وہ اپنے رب کو سب سے پہلے پیاری ہوئیں۔ٹھیک اسی طرح جس طرح ہمارے چھوٹے ماموں حضرت میر محمد اسحاق صاحب ہمارے نانا جان مرحوم کے سب سے چھوٹے بچہ ہونے کے باوجود سب سے پہلے خدا کے حضور حاضر ہوئے۔حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم اور ان کی زوجہ محترمہ ( اللہ تعالیٰ اُن پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ) ضلع راولپنڈی کے رہنے والے تھے مگر چونکہ وہ اپنی ملازمت کے تعلق میں ایک بہت لمبا عرصہ رعیہ ضلع سیالکوٹ میں رہے تھے۔اس لئے رعیہ گویا ان کا وطن ثانی بن گیا تھا اور ان کی یاد میں ہمیشہ محبوب رہتا تھا۔اور مجھے یاد ہے ہمشیرہ ام طاہر احمد صاحبہ بھی کئی دفعہ محبت کے ساتھ رعیہ کا ذکر کیا کرتی تھیں۔اور اس علاقہ کے اصحاب بھی حضرت شاہ صاحب مرحوم اور ان کے خاندان کو نہایت درجہ محبت اور احترام کی نظر سے دیکھتے رہے ہیں اور اب تک ان کے زمانہ کی یاد ان کے دلوں کو محبت