مضامین بشیر (جلد 1) — Page 75
۷۵ مضامین بشیر یہ الفاظ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہیں جو آپ نے ان آیات قرآنی کی تفسیر میں تحریر فرمائے ہیں۔الغرض قرآن شریف میں یہ بات ثابت ہے کہ ستارے اپنے اندر تا ثیرات رکھتے ہیں۔یہ تاثیرات دنوں اور زمانوں پر بھی اپنا اثر رکھتی ہیں۔وہو المراد میں بفضلہ تعالیٰ یہ ثابت کر چکا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے جو تحدی کے ساتھ یہ لکھا تھا کہ : - قرآن میں کہیں نہیں۔حدیث میں کہیں نہیں۔حضرت مسیح موعود کی تقریر و تحریر 66 میں کہیں نہیں۔“ یہ بالکل غلط اور ایک محض بے بنیاد دعوئی ہے جس کی کچھ بھی حقیقت نہیں۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں :۔دو کس قد ر لغو کہ وہ شخص جو قرآن کا بے نظیر علم رکھتا تھا۔جس کی فیض صحبت سے بہت سے اُمّی عالم قرآن بن گئے۔وہ قرآن کی یہ آیت معاذ اللہ نہ جانتا تھا کہ سَخَّرَ لَكُمُ مَا فِى السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ ۳۶ے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ سب کا سب تمہاری خدمت میں لگا ہوا ہے۔مکرم ڈاکٹر صاحب ! خدا آپ کو اس آتش غضب سے نجات دے۔آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔اگر سانپ اور بچھو با وجود اس کے کہ وہ لاکھوں انسانوں کی جانیں ہر سال ضائع کر دیتے ہیں اور شیر اور چیتا اور بھیڑیا با وجود اس کے کہ وہ ہر آن اس تاک میں رہتے ہیں کہ انسان کو اپنی خوراک بنائیں اور پھر یہ ہزاروں قسم کے زہر اور لاکھوں قسم کی دوسری مضرت رساں چیزیں جن کے تکلیف دہ اثرات کا انسان نشانہ بنا رہتا ہے۔انسان کی خدمت کے لئے مسخر سمجھی جاسکتی ہیں تو بعض قہری اور شدائد کا پہلو رکھنے والی تاثیرات والے ستارے کیوں نہ مستخر سمجھے جائیں۔افسوس ڈاکٹر صاحب نے غور نہیں کیا کہ ہر اک چیز مستظر ہے ان معنوں میں کہ وہ خدا کے حکم اور اس کے مقرر کردہ قانون کے ماتحت ہے۔اور پھر ہر اک چیز انسان کے لئے مسخر ہے ان معنوں میں کہ انسان خدا کے مقرر کردہ قانون کا علم حاصل کر کے اس سے اپنی ترقی و بہبودی میں مدد حاصل کر سکتا ہے۔پس خدا کی قہری اور جلالی شان کو ظاہر کرنے والی چیزیں بھی انسان ہی کے لئے مسخر ہیں کیونکہ ان کے اندر بھی انسان کی فلاح و بہبودی کا راز مضمر ہے۔ابلیس بھی جو آگ سے پیدا کیا گیا اور ہر وقت ابن آدم کو گمراہ اور آلام میں مبتلا کرنے کے درپے رہتا ہے اس آیت تسخیر سے باہر نہیں کیونکہ وہ بھی انسانی فطرت کے بہت سے مخفی مگر قیمتی جو ہروں کو ظاہر کرنے اور نشو و نما دینے کا باعث بنتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے بالکل عامیانہ رنگ میں ایک اعتراض کر دیا ہے اور اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کی طرف توجہ نہیں کی۔