مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 76 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 76

مضامین بشیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تین چیزیں بعض اوقات انسان کے لئے نحوست کا موجب ہو جاتی ہیں۔ایک مکان دوسرے بیوی اور تیسرے سواری تو کیا ڈاکٹر صاحب کے نزدیک یہ چیزیں تسخیر سے باہر ہیں۔پھر ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں :- وہ شخص جو انسان کی خلافت الہی کا نکتہ جماعت کو بتلا گیا۔وہ نعوذ باللہ منگل سے ڈرتا تھا اور دعا کرتا تھا کہ منگل کا دن ٹل جائے۔گویا منگل کا دن ٹل جائے گا تو 66 تقدیر الہی بدل جائے گی۔“ میں ڈاکٹر صاحب سے خدا کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ وہ دیانت داری سے یہ بتائیں کہ میں نے کہاں لکھا ہے کہ حضرت صاحب منگل سے ڈرتے تھے۔آخر اس ظلم کے کیا معنی ہیں کہ خوانخواہ بلا وجہ ایک بات میری طرف منسوب کر کے اس پر اعتراض جما دیا جاتا ہے۔میں نے صرف یہ لکھا تھا ނ کہ حضرت صاحب نے مبارکہ بیگم کی ولادت کے وقت دعا فرمائی تھی کہ خدا اسے منگل کے اثر محفوظ رکھے۔جو شدائد اور سختیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔اب اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ گویا حضرت صاحب منگل سے ڈرتے تھے ، انصاف کا خون کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔اور اگر ڈاکٹر صاحب دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ اس موقع پر ڈرنے کا لفظ جائز طور پر استعمال ہوسکتا ہے تو میں ان سے بادب پوچھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنے سفروں کے لئے جمعرات کا دن پسند فرماتے تھے تو کیا ڈاکٹر صاحب کے نزدیک " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باقی دنوں سے ڈرتے تھے۔اور پھر حضرت مسیح موعود نے جو یہ لکھا ہے کہ : - اللہ تعالیٰ نے آدم کی پیدائش کے وقت خاص خاص ستاروں کی تاثیرات سے کام لیا۔“ تو کیا ڈاکٹر صاحب کے نزدیک نعوذ باللہ خدا باقی ستاروں سے ڈرتا تھا۔“ افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس قسم کی بچگانہ باتوں کو اپنے مضمون کے اندر داخل کر کے خواہ نخواہ اپنے وقار کو صدمہ پہنچایا ہے۔پھر ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں۔گویا منگل کا دن ٹل گیا تو تقدیر الہی بدل جائے گی۔“ مکرم ڈاکٹر صاحب ! خدا آپ کی آنکھیں کھولے۔تقدیر الہی تو قانون قدرت کے ماتحت بات بات پر بدلتی ہے۔پھر وہ منگل کے ٹلنے سے بدل جائے تو آپ کو کیا اعتراض ہے۔آپ کے پاس ایک ملیریا کا : مطبوعه الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۲۶ء