مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 74 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 74

مضامین بشیر ۷۴ حیات انسانی پر بھی پڑتا ہے اور یہی میری روایت کا منشاء تھا۔اور اگر کسی شخص کو یہ شبہ گذرے کہ اس آیت کریمہ میں تو ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے۔ستاروں کی تاثیر کا کوئی خاص ذکر نہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ جب اس آیت میں دنیا کی ہر چیز میں ہر دوسری چیز کے لئے تاثیر مان لی گئی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ ستارے بھی کسی نہ کسی رنگ میں انسان کی زندگی پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔مگر معترض کی مزید تسلی کے لئے ایک اور آیت پیش کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ۲۳ یعنی ہم نے آسمانوں کو روشن ستاروں سے زینت دی ہے تا کہ وہ نظام عالم کی 66 حفاظت میں بھی کام دیں۔اس جگہ ستاروں کی تین غرضیں بیان کی گئی ہیں۔اول زینت دوسر کے تنویر۔تیسر کے حفاظت و تقویم عالم اور تیسری شق کے اندر ان کی وہ مختلف تاثیرات شامل ہیں جو وہ دنیا اور اہل دنیا پر قانون قدرت کے ماتحت ڈالتے رہتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں کہ : - یہ ستارے فقط زینت کے لئے نہیں ہیں جیسا کہ عوام خیال کرتے ہیں بلکہ ان میں تا ثیرات ہیں جیسا کہ آیت وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا یعنی حفظا کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔۲۴ پھر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحفہ گولڑویہ میں ان آیات قرآنی کی تفسیر فرمائی ہے جن میں آدم کی پیدائش اور اس کے متعلق فرشتوں کے سوال کا ذکر ہے۔اس میں بھی آپ نے یہی بات بیان کی ہے کہ : - فرشتوں نے جو آدم کی پیدائش پر خدا سے یہ سوال کیا کہ کیا تو ایک ایسی مخلوق بنانے لگا ہے جو دنیا میں فتنوں کا موجب ہو گی۔کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ جمعہ کا دن قریبا گذر چکا ہے۔اور اب ستارہ زحل کا اثر شروع ہونے والا ہے جو قہر و عذاب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔جس پر ان کو گھبراہٹ پیدا ہوئی تو اس پر خدا نے فرمایا کہ انی اعلم ما لا اتعلمون یعنی تمہیں خبر نہیں۔کہ میں آدم کو کس وقت بناؤں گا۔میں مشتری کے وقت کے اس حصہ میں اسے بناؤں گا جو اس دن کے تمام حصوں میں سے زیادہ مبارک ہے اور اگر چہ جمعہ کا دن سعد اکبر ہے لیکن اس کے عصر کے وقت کی گھڑی ہر ایک اس کی گھڑی سے سعادت اور برکت میں سبقت لے گئی ہے۔۲۴