مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 484 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 484

مضامین بشیر ۴۸۴ یاران تیز گام نے محمل کو جالیا ہم مجو ناله جرس کارواں رہے حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم کی وفات پر ایک نوٹ ابتدائی زمانہ کے پاک نفس بزرگ الفضل، مورخہ ۲۸ اگست ۱۹۴۱ء میں حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کا وہ خطبہ شائع ہوا ہے جو حضور نے مورخہ ۲۲ اگست ۱۹۴۱ء کے جمعہ میں فرمایا تھا۔اس خطبہ میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی وفات کا ذکر کر کے جماعت کو ان پاک نفس بزرگوں کی قدرشناسی کی طرف توجہ دلائی ہے۔جنہوں نے ابتدائی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ساتھ دے کر اور ہر قسم کی تلخی اور تنگی اور قربانی میں حصہ لے کر محبت اور اخلاص اور وفاداری کا اعلیٰ ترین نمونہ قائم کیا ہے۔اسی مبارک گروہ میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم بھی شامل تھے۔جن کے متعلق میں اس مضمون میں بعض خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔دریافت حال کے لئے خط غائبا ۱۸ اگست کی تاریخ تھی اور حضرت خلیفہ محی الثانی ایدہ اللہ و بوی میں تشریف رکھتے تھے کہ مجھے حضرت منشی صاحب مرحوم کے بھانجے منشی تنظیم الرحمن صاحب کے ایک خط سے یہ اطلاع ملی کہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ میں سخت بیمار ہیں اور حالت تشویشناک ہے۔میں نے اس اطلاع کے ملتے ہی حضرت منشی صاحب موصوف کے صاحبزادہ شیخ محمد احمد صاحب بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی کپورتھلہ کے نام ایک خط اظہار ہمدردی اور دریافت خیریت کے لئے ارسال کیا اور مجھے یہ خوشی ہے کہ میرا یہ خط منشی صاحب مرحوم کی زندگی میں ہی ان کی وفات سے چند گھنٹے قبل شیخ محمد احمد صاحب کومل گیا اور منشی صاحب مرحوم کے علم میں بھی آ گیا۔جنہوں نے اس خط پر خوشی اور تسکین کا اظہار فرمایا مگر چونکہ خدا کے علم میں حضرت منشی صاحب کا پیمانہ حیات لبریز ہو چکا تھا اور وفات کا مقدر وقت آچکا تھا