مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 77 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 77

LL مضامین بشیر بیما رآتا ہے جس کے خون کے جراثیم اگر ہلاک نہ کئے جائیں تو اس کی تقدیرہ یہ ہے کہ وہ خود ہلاک ہو۔لیکن آپ اسے کو نین دے کر اس کی تقدیر کو بدل دیتے ہیں۔آپ کو خود بھوک لگتی ہے اور اگر آپ کھانا نہ کھائیں تو آپ کی تقدیر موت ہے لیکن آپ کھانا کھا کر اس تقدیر کو بدل دیتے ہیں۔تو پھر اگر منگل کا دن ٹل جانے سے خدا کی کوئی تقدیر بدل جاوے تو آپ کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔افسوس ہے کہ آپ نے میرے خلاف غصہ میں تقدیر کے مسئلہ کو بھی بری طرح مسخ کر دیا ہے۔حالانکہ اگر آپ سوچتے تو آپ کو پتہ لگتا کہ خدا کے مقرر کردہ قانون قدرت کے ماتحت جو نتائج پیدا ہوتے ہیں وہی خدا کی تقدیر ہوتی ہے۔مثلاً خدا کی یہ تقدیر ہے کہ فلاں زہر کھانے سے انسان ہلاک ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی خدا ہی کی تقدیر ہے کہ اگر اس زہر کے اثر کو فلاں طرح مٹایا جائے تو وہ مٹ جاتا ہے۔آپ ڈاکٹر ہیں اور آپ کا سارافن اسی بنیاد پر قائم ہے کہ خدا کی ایک قسم کی تقدیروں کو اس کی دوسری قسم کی تقدیروں سے مٹایا جائے۔پھر نہ معلوم آپ میرے خلاف بلا وجہ اعتراض جما کر لوگوں کو دھوکا دینے کی راہ کیوں اختیار کر رہے ہیں۔کیا آپ اس حدیث کو بھول گئے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی فوج میں طاعون شروع ہوئی تو حضرت عمر نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ فوج کو ادھر ادھر کھلی ہوا میں پھیلا دیں۔اور خود بھی باہر کھلے میدان میں نکل جائیں اور انہوں نے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ کیا آپ مجھے یہ مشورہ دیتے ہیں کہ خدا کی تقدیر سے بھاگوں یعنی کیا میرے جانے سے خدا کی تقدیر بدل جائے گی تو اس پر حضرت عمرؓ نے یہ جواب دیا تھا کہ ہاں میں آپ کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ خدا کی ایک تقدیر سے نکل کر دوسری تقدیر میں داخل ہو جا ئیں۔یعنی آپ کے یہاں رہنے سے اگر خدا کی یہ تقدیر ہو گی کہ آپ اس مرض کے اثر کو قبول کریں تو باہر جانے سے اس کی یہ تقدیر ہو گی کہ آپ اس کے اثر سے محفوظ ہو جا ئیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ پسند فرمایا ہے کہ ہم لوگ اپنے سفروں کے لئے حتی الوسع جمعرات کا دن اختیار کر یں۔تو کیا بقول ڈاکٹر صاحب ” جمعرات کے سفر سے تقدیر الہی بدل جائے گی ؟ اور پھر خدا نے جو آدم کی پیدائش میں بعض ستاروں کی تاثیرات کو اختیار کیا اور بعض کو ترک کیا تو کیا اس طرح انسان کے لئے تقدیر الہی بدل جائے گی۔“ مکرم ڈاکٹر صاحب! آپ نے بڑی جلد بازی سے کام لیا ہے اور اتنا نہیں سوچا کہ یہ دنیا دار الاسباب ہے اور انسان تو انسان ہے اس دنیا میں خدا کی بھی یہی سنت ہے کہ وہ اسباب کے ذریعہ سے کام لیتا ہے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سلسلہ اسباب کی رعایت رکھتے ہوئے یہ دعا فرمائی کہ خدا تعالیٰ مبارکہ بیگم کو منگل کے اس اثر سے جو شدائد اور سختی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے