مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 78 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 78

مضامین بشیر ۷۸ محفوظ فرمائے تو کچھ برا نہیں کیا۔بلکہ خدا کی ایک تقدیر کو اس کی دوسری بہتر تقدیر کے ذریعہ سے بدلنا چاہا ہے۔جیسا کہ خود خدا نے ہمارے جد امجد آدم کی پیدائش کے وقت بعض ستاروں کی تاثیر کو چھوڑ کر اور بعض دوسرے ستاروں کی تاثیر کو اختیار کر کے آدم کی تقدیر کو بدلا تھا۔اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمائی ہے کہ تم حتی الوسع جمعرات کو سفر کر کے اپنی تقدیر کو بہتر صورت میں بدلنے کی کوشش کیا کرو۔اور جیسا کہ خود جناب ڈاکٹر صاحب اپنے بیماروں کا علاج کر کے ان کی تقدیر بدلنے کی کوشش فرمایا کرتے ہیں اور جیسا کہ ہم میں سے ہر ایک فرد بشر بلکہ ہر اک لا یعقل جانور بھی ہر روز خدا کے قانون قدرت سے فائدہ اٹھا کر اپنی بُری تقدیروں کو اچھی تقدیر کی صورت میں بدلتا رہتا ہے۔اور میں اس شخص کو سعادت فطری کے مادہ سے محروم کلی سمجھتا ہوں جو آدم کا بیٹا ہو کر جس کے خمیر میں خدا کی نیک تقدیروں کے مدد سے اس کی ضرر رساں تقدیروں کے بدلنے کا مادہ فطرت کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے۔ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھا رہتا ہے۔اور خدا کے جاری کردہ قانون سے فائدہ اٹھا کر اپنے اور اپنے متعلقین کے لئے دینی ود نیاوی ترقیات کے دروازے نہیں کھولتا بلکہ ضرر رساں تقدیروں کا تختہ مشق بنارہ کر قعر مذلت کی طرف گرتا چلا جاتا ہے۔مگر یہ بھی نہیں سمجھنا چاہئے کہ گویا انسان کے حالات زندگی کلیتہ ان ستاروں کے اثر کے ماتحت ہیں اور جو انسان ستاروں کی اعلیٰ تاثیرات کے ماتحت پیدا ہوتا ہے وہ بہر حال خوش بخت ہوگا اور اعلیٰ زندگی بسر کرے گا اور جو کسی دوسری قسم کی تاثیرات کے ماتحت دنیا میں آتا ہے وہ بہر حال شدائد اور سختیوں کا اثر پائے گا۔ایسا ہر گز نہیں کیونکہ انسانی زندگی پر اثر ڈالنے والے صرف ستارے ہی نہیں ہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں اربوں اور چیزیں بھی ہیں۔جن میں سے بہت سی انسان کے اپنے اختیار میں ہیں اور ان سب کے مجموعی اثر کے نتیجے میں انسانی زندگی کے حالات متعین ہوتے ہیں اور بہت سی تاثیرات ایک دوسرے کے مقابل پر آجانے کی وجہ سے کٹ بھی جاتی ہیں۔پس بالکل ممکن ہے اور عملاً ایسا ہوتا رہتا ہے کہ ایک شخص کی ولادت امن و آسائش وغیرہ کی تاثیر رکھنے والے اجرام سماوی کے ماتحت وقوع میں آئے لیکن دوسرے اثرات اس کی زندگی کے حالات کو دوسرے رنگ میں پلٹ دیں۔یا کسی شخص کی ولادت شدائد اور سختیوں کی تاثیر کے ماتحت ہولیکن دوسری چیزوں کی تاثیرات اس اثر کو مٹا کر امن و اسائش وغیرہ کی تاثیر کو غالب کر دیں۔جیسا کہ مثلاً کونین کے اندر یہ تاثیر ہے کہ وہ ملیریا کے کیٹروں کو مارتی ہے لیکن اگر اس کے مقابلہ میں ایسی چیزیں آجائیں جو قانون قدرت کے ماتحت ملیریا کے کیٹرے پیدا کرتی