مضامین بشیر (جلد 1) — Page 70
مضامین بشیر لیجئے ڈاکٹر صاحب اب آپ کیا فرماتے ہیں ستاروں کی تاثیرات کے متعلق حضرت صاحب نے کیسا صاف فیصلہ فرما دیا ہے اور اگر آپ کو یہ عذر ہو کہ یہ تو صرف عام تا خیرات کا بیان ہے حضرت صاحب نے یہ تو نہیں لکھا کہ انسان کی ولادت پر بھی ستاروں کا اثر پڑتا ہے کیونکہ یہاں پر زیر بحث ایک بچہ کی ولادت کا سوال ہے نہ کہ کوئی عام تاثیرات کا ذکر تو اس کے متعلق بھی ملا حظہ فرمائیے حضرت صاحب تحریر فرماتے ہیں :- چونکہ اللہ تعالی علمی سلسلہ کو ضائع کرنا نہیں چاہتا اس لئے اس نے آدم کی پیدائش کے وقت ان ستاروں کی تاثیرات سے بھی کام لیا۔کلا میں نہیں سمجھ سکتا کہ حضرت صاحب کے اس غیر مشکوک فیصلہ کے بعد ڈاکٹر صاحب یا کوئی اور احمدی ایک لمحہ کے لئے بھی ستاروں کی تاثیرات کا منکر ہوسکتا ہے اور یہی وہ بات تھی جو میں نے اس روایت میں بیان کی تھی جس پر ڈاکٹر صاحب نے اتنی آہ و پکار کی ہے اور اگر ڈاکٹر صاحب یہ فرمائیں کہ ان حوالجات میں منگل کا کہاں ذکر ہے تو گو منگل کو مخصوص طور پر ذکر کئے جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس سارے مسئلہ کی بنیاد اس اصل پر ہے کہ ستاروں کی تاثیرات زمانہ اور اہل زمانہ اور ولادت بچگان پر پڑتی ہیں اور ان حوالجات میں قطعی طور پر یہ بیان کر دیا گیا ہے کہ ستارے اس قسم کی تاثیرات اپنے اندر رکھتے ہیں اور یہ بھی کہ یہ تاثیرات دوا اور غذا کی طرح مفید اور ضرر رساں ہر دو پہلو اپنے ساتھ رکھتی ہیں۔گوڈاکٹر صاحب پر مزید اتمام حجت کرنے کے لئے ایک اور حوالہ بھی پیش کرتا ہوں۔حضرت صاحب فرماتے ہیں :- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ۔مریخ کے اثر کے ماتحت ہے۔اور یہی سر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مفسدین کے قتل اور خوں ریزی کے لئے حکم فرمایا گیا جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور قتل کرنا چاہا اور ان کے استیصال کے درپے ہوئے اور یہی خدا تعالیٰ کے حکم اور اذن سے مریخ کا اثر ہے۔‘۱۸ اس جگہ مریخ کا اثر شدائد اور سختی اور قتل و خونریزی کے رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اور ڈاکٹر پنے مضمون میں بیان کرتے ہیں کہ ہندوؤں کا ستارا منگل اور اسلامی ہئیت دانوں کا مریخ ایک ہی ہیں۔پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک منگل کا اثر شدائد اور سختی اور قتل و خونریزی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور یہی میری روایت کا منشاء تھا اور اگر اس جگہ کسی کو یہ