مضامین بشیر (جلد 1) — Page 71
21 مضامین بشیر خیال پیدا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مریخ کے اثر کے ماتحت کیوں ہوئی تو اس کا جواب آگے آئے گا۔ہے ڈاکٹر صاحب ستاروں کے اثرات کے متعلق تحریر فرماتے ہیں یہ مسئلہ : - یہ مسئلہ قرآن شریف میں کہیں نہیں۔حدیث میں کہیں نہیں۔حضرت صاحب کی 66 تقریر و تحریر میں کہیں نہیں۔“ حضرت صاحب کا فیصلہ تو پیش خدمت کر چکا ہوں اب حدیث کو لیجئے۔بخاری میں ایک حدیث آتی ہے کہ ایک سفر میں رات کو بارش ہوئی اور صبح کو لوگوں میں یہ باتیں ہوئیں کہ یہ بارش فلاں فلاں ستاروں کی وجہ سے ہوئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز میں تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے فرمایا ہے کہ : - أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِى مُؤْمِنُ بِى وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرُنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَالِكَ مُؤْمِنُ بِى كَافِرٌ بِالْكَوْ كَبِ ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: بنَوْءِ كَذَا وكَذَا، فَذَالِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنُ بِالْكَوْكَبِ ۱۹ یعنی خدا فرماتا ہے کہ آج صبح میرے بندوں میں سے بعض نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ مجھ پر ایمان لانے والے اور ستاروں کا کفر کرنے والے تھے اور وہ وہ تھے جنہوں نے یہ کہا کہ خدا کے فضل اور رحمت سے ہم پر بارش برسی ہے۔اور وہ 66 جنہوں نے یہ کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کے اثر نے بارش برسائی ہے، وہ میرے کافر ہوئے اور ستاروں کے مومن بنے۔یہ حدیث نبوی جس میں امت محمدیہ کو توحید کا ایک نہایت لطیف سبق سکھایا گیا ہے۔اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ ستارے اپنے اندر دنیا اور اہل دنیا کے لئے تاثیرات رکھتے ہیں کیونکہ اگر ستاروں میں تا خیرات نہ ہوتیں تو یہ نہ کہا جاتا کہ ستاروں کی تاثیر کی طرف بارش وغیرہ کو منسوب نہ کرو اور خدا کے فضل و رحمت کی طرف منسوب کیا کرو۔بلکہ اس صورت میں یہ بیان کیا جاتا کہ بارش کے برسنے میں ستاروں کے اثر کا دخل نہیں۔بلکہ فلاں فلاں اسباب کا دخل ہے۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ انعامات کو خدا کے فضل و رحمت کی طرف منسوب کرنا چاہیئے۔جس میں یہ صاف اشارہ ہے کہ ستاروں کی تاثیرات تو درست ہیں لیکن مومن کو چاہیئے کہ تمام ارضی اور سماوی انعامات کو خدا کے فضل کی طرف منسوب کیا کرے اور درمیانی وسائط کو صرف بطور ایک خادم کے سمجھے۔تا کہ ایک تو اس مطبوعہ الفضل ۲۷ جولائی ۱۹۲۶ء