مضامین بشیر (جلد 1) — Page 630
مضامین بشیر ۶۳۰ الفاظ قرآن شریف میں مسجد حرام کے متعلق بھی استعمال ہوئے ہیں۔تیسرا الہام تیسرا الہام جو اس مسجد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا وہ یہ ہے۔بَيْتُ الْفِكْرِ وَبَيْتُ الذِكرها یعنی اے خدا کے مقرر کردہ امام اگر تیرا گھر افکار علمی وروحانی کا گہوارہ ہے جس میں سے اسلام کی تائید میں اور شیطانی طاقتوں کی تردید میں گولہ و بارود تیار ہو ہو کر نکلتا رہے گا تو یہ تیرے گھر کے ساتھ لگی ہوئی چھوٹی سی مسجد خدا کے علم میں بیت الذکر ہے جس میں ہمیشہ خدائے واحد کا نام لیا جاتا رہے گا اور اس کے پجاریوں کی زبانیں ابدالآباد تک خدائے قدوس کے ذکر سے تر رہیں گی۔“ چوتھا الہام پھر چوتھا الہام اس مسجد کے متعلق یہ ہے کہ : - لا رَادَّ لِفَضْلِه یعنی خدائے قدیم و علیم نے ارداہ فرمایا ہے کہ آئندہ اس مسجد پر اور اس مسجد کے ساتھ تعلق رکھنے والوں پر اپنے فضل و رحمت کی بارشیں نازل فرمائے اور دنیا کی 66 کوئی طاقت ان فضلوں کو روک نہیں سکے گی۔“ یہ الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسجد مبارک کے دروازہ کی پیشانی پر سبز حروف میں لکھے ہوئے دیکھے تھے۔دروازہ پر لکھا ہوا دیکھنا اس اعلان کو بانگ بلند پکارنے اور مخالفوں کو یہ کھلا چیلنج دینے کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تم میں ہمت ہے تو آؤ اور ان خدائی فضلوں کو روک لو۔اور سبز رنگ میں یہ اشارہ ہے کہ اس مسجد میں ہمیشہ جنت والی تر و تازگی رہے گی اور کبھی خزاں نہیں آئے گی۔اسی طرح جب حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی پیدائش ہونے والی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا تھا کہ مسجد مبارک کی دیوار پر پیدا ہونے والے بچہ کا نام محمود لکھا ہوا ہے۔کا اس میں یہ اشارہ تھا کہ یہ بچہ مسجد مبارک والے وعدوں سے حصہ پائے گا۔اور اپنے کاموں میں محمود نکلے گا۔اور عجیب بات یہ ہے کہ خدائی تصرف کے ماتحت مصلح موعود والی پیشگوئی کے ابتدائی