مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 625 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 625

۶۲۵ مضامین بشیر ور فیق وہ ہستی تھی جس نے غریبوں کی بہبودی کے واسطے ایک عجیب وغریب اور پختہ اور دائمی نظام قائم کر دینے کے باوجود ان کی تسلی اور تسکین کے لئے یہ پیارے الفاظ فرمائے کہ اے میرے غریب روحانی بچو جہاں تک میرے لئے امیروں کی دولت کو جائز طور پر حاصل کرنے کا رستہ کھلا تھا وہ میں نے ان سے لے کر تمہیں دیدی۔لیکن اگر پھر بھی کوئی کسر باقی رہ جائے تو پھر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ الفقر فخری یعنی اس صورت میں تم میری طرف آؤ۔کیونکہ میں اس فقر میں تمہارے ساتھ شریک ہوں۔اور میں اس فقر میں بھی تمہارے لئے فخر کے سامان پیدا کر دوں گا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عظیم الشان فلسفہ پیش کر کے کہ انسانی خوشی صرف جسم تک محدود نہیں ہے۔بلکہ زیادہ اہم اور زیادہ دیر پا اور زیادہ قابل قدر خوشی روح کی خوشی ہے۔اپنی امت کے فاقہ مست درویشوں کے لئے مادی سامان آسائش کے نہ ہونے کی صورت میں بھی ایسی روحانی خوشی کا رستہ کھول دیا ہے جس کے مقابل پر جسمانی خوشی اتنی بھی حقیقت نہیں رکھتی جتنی ایک پہاڑ کے مقابل پر رائی کے دانہ کی حقیقت ہے۔اور اس خوشی کی قدرو قیمت وہی لوگ جانتے ہیں جنہوں نے اس سے حصہ پایا ہے۔اللهم صل على محمد وعلى آل محمد و بارک وسلم۔( مطبوعه الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۴۵ء)