مضامین بشیر (جلد 1) — Page 609
۶۰۹ مضامین بشیر تربیت کا یہ اصول ہے کہ پہلے اس کے اندر منفی قسم کی نیکیاں پیدا کی جائیں۔یعنی پہلے اسے بدیوں سے پاک وصاف کیا جائے۔اور پھر مثبت قسم کی نیکیوں کی طرف توجہ کی جائے۔بظاہر یہ ایک بالکل سیدھا اور طبعی طریق نظر آتا ہے۔مگر در حقیقت یہ ایک نہائت غلط اور تباہ کن طریق ہے۔اور زیر بحث قرآنی آیت بڑی وضاحت سے اس کی تردید کرتی ہے۔کیونکہ اس آیت میں پہلے مثبت قسم کی نیکیوں کا ذکر ہے اور پھر منفی قسم کی نیکیوں کا اور غور کیا جائے تو یہی طریق صحیح اور طبعی طریق ہے کہ پہلے نیکی قائم کی جائے اور پھر اس کی مدد سے بدی کا استیصال ہو۔حقیقت یہ ہے کہ قوت و طاقت کا اصل منبع مثبت قسم کی نیکی میں مرکوز ہے۔اور منفی قسم کی نیکی اس کے تابع ہے۔جس طرح ایک ریل کی گاڑیاں اس کے انجن کے تابع ہوتی ہیں۔ویسے بھی غور کریں تو منفی نیکی رکنے کا نام ہے اور مثبت نیکی عمل اور اقدام کا رنگ رکھتی ہے۔اور کون عقلمند ہے جو رکنے کے فعل کو طاقت وقوت کا منبع قرار دے سکتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف نے مثبت نیکی کو مقدم رکھا ہے اور منفی کو مؤخر۔چنانچہ اس آیت کے علاوہ بھی قرآن شریف نے جہاں جہاں ہر دو قسم کی نیکیوں کو ایک جگہ بیان کیا ہے۔یا جہاں جہاں نیکیوں کی تلقین و تبلیغ کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں مثبت قسم کی نیکیوں کو پہلے بیان کیا ہے اور منفی قسم کو بعد میں۔مثلاً اس قسم کی آیتوں سے قرآن شریف بھرا پڑا ہے کہ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۵۳ ور نہ عام خیال کے مطابق یوں ہونا چاہیئے تھا کہ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَأمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ مگر چونکہ اسلام فطرت کا مذہب ہے اس لئے اس نے انسانی فطرت کی صحیح نبض پر انگلی رکھ کر مثبت نیکی کو ہمیشہ پہلے رکھا ہے اور منفی نیکی کو بعد میں بلکہ ایک جگہ تو قرآن شریف صراحت کے ساتھ فرماتا ہے کہ۔إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ ۵۴ یعنی ہم نے مثبت نیکیوں میں یہ طاقت ودیعت کی ہے کہ وہ بدیوں کو اس طرح بہا کر لے جاتی ہیں جس طرح کہ دریا کی تیز روخس و خاشاک کو بہاتی ہے۔“ اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَائِوَ الْمُنْكَرِ یعنی نماز جو ایک مثبت قسم کی نیکی ہے اس میں خالق فطرت نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ انسان کو فحشاء اور منکر سے بچاتی ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ تربیت انسانی کے میدان میں مثبت نیکیوں کو مقدم کیا جا تا۔اور اسی حکیمانہ اصول کی طرف ہمیں آیت زیر بحث بڑے لطیف پیرا یہ میں توجہ دلا رہی ہے۔پس چاہیئے کہ ہم اپنے بچوں اور کمزور لوگوں اور نو مسلموں اور نو احمد یوں بلکہ خود اپنے نفسوں کی تربیت میں اس پختہ اور فطری اصول کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں۔یقیناً وہ والدین جو بزنم خودا اپنے آوارہ بچوں کی آوارگی کو دور