مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 608 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 608

مضامین بشیر ۶۰۸ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۵۲ یعنی حقیقی نماز تو وہ ہے جو انسان کو نہ صرف الہی قانون کے توڑنے سے روک دیتی ہے۔بلکہ قانون کی روح کو بھی مرنے سے بچاتی ہے۔“ دوسرے درجہ پر قرآن شریف نے منکر کا لفظ رکھا ہے منکر کے معنی لوگوں کو نظر آنے والی بدی کے ہیں۔جسے قانون پر چلنے والے لوگ دیکھیں اور اسے بُرا منا ئیں۔گویا منکر سے مراد قانون شکنی ہے۔یعنی ایک انسان اپنے اوپر خدائی حکومت کو تو تسلیم کرے اور اس کی حکومت کا باغی نہ ہو۔مگر عملاً قانون تو ڑتا بھی رہے۔یہ بدی بھی بہت عام ہے مثلاً ایک شخص اسلام کا دعوی کرتا ہے مگر نما ز نہیں پڑھتا یا روزہ نہیں رکھتا یا زکوۃ فرض ہوتے ہوئے زکوۃ نہیں دیتا۔وغیرہ ذالک۔ایسا شخص فحشاء کی حد سے آگے گزر کر منکر کا مرتکب ہوتا ہے۔کیونکہ جہاں فحشا کا ارتکاب کرنے والا شخص بظاہر قانون پر قائم اور کار بند تھا اور صرف اس کی روح کے خلاف قدم مارتا تھا وہاں یہ شخص خود قانون کو ہی تو ڑتا ہے۔اور خدا کی حکومت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حکموں کو عملاً نہیں مانتا۔تیسرا درجہ بغی کا ہے یعنی انسان سرے سے خدا کی حکومت ہی کا باغی اور سرکش ہو جائے اور یہ دو طرح سے ہو سکتا ہے۔ایک اس طرح کہ ایک انسان خدائی حکومت کا کلی طور پر باغی ہو جائے۔مثلاً مطلقاً اسلام کا ہی انکار کر دے اور دوسرے اس طرح کہ اسلام کے کسی حکیم سے انکاری ہو جائے۔مثلاً یہ کہتا ہو کہ میں اسلام کو تو مانتا ہوں مگر اس کا جو حکم سود کے متعلق ہے یا جو تعلیم اس کی تعدد ازدواج کے بارے میں ہے اسے درست نہیں سمجھتا۔سو ایسا شخص بافی یعنی بغی کا مرتکب ہے۔جو منکر کے مرتکب سے بھی آگے قدم مارتا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ آیت کے دوسرے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے تین اصولی بدیوں کو علی الترتیب بیان کر کے اور انہیں پہلے حصہ کی تین اصولی نیکیوں کے مقابل پر رکھ کر اپنی تعلیم کو اصولی طور پر مکمل فرما دیا ہے۔پس یہ آیت صرف حقوق العباد ہی کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی بلکہ ایک نہائت لطیف رنگ میں حقوق اللہ کے ساتھ بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔اور یہ قرآن شریف کا کمال ہے کہ اس نے اتنے مختصر الفاظ میں اتنے وسیع مضمون کو بیان فرما دیا ہے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد ہر دو میدانوں میں ایک مشعل راہ کا کام دیتا ہے۔جس کے باہر کوئی مثبت یا منفی قسم کی نیکی باقی نہیں رہتی۔اور انسان کے ہاتھ میں ایک اصولی مگر مکمل ضابطہ عمل آجاتا ہے۔فسبحان الله والحمد لله ولا حول ولا قوة الا بالله۔بالآخر میں اس جگہ نہائت مختصر طور پر ایک اور بات بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں۔جو اس آیت سے مجموعی طور پر مستنبط ہوتی ہے۔اور یہ بات انسانی تربیت کے ساتھ اصولی تعلق رکھتی ہے کہ انسانی