مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 581 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 581

۵۸۱ مضامین بشیر پہنچ جاتی تھی۔مگر اللہ میاں کے سودے بھی کتنے نقد بنقد ہوتے ہیں کہ وفات سے پہلے خدا نے ہمشیرہ مرحومہ کی آنکھیں بھی اس نظارہ سے ٹھنڈی کیں کہ باوجو د لمبی بیماری کے مرحومہ کے ذی شان خاوند نے ان کی تیمار داری میں انتہائی محبت اور انتہائی خدمت کا حق ادا کیا۔اور دوسرے عزیزوں نے بھی علی حسب مراتب کسی بات میں کمی نہیں کی اور مرحومہ کی لجنہ کی رفیق کا راقبال بیگم صاحبہ نے تو اڑھائی مہینہ اس محبت اور اس جانفشانی کے ساتھ خدمت سر انجام دی کہ ہم سب کے دل سے ان کے لئے دعا نکلتی ہے۔لین دین کے معاملات میں صفائی لین دین کے معاملہ میں بھی ہمشیرہ مرحومہ نہایت صاف تھیں اور لوگ ان پر کامل اعتماد کرتے تھے۔اور ان کے پاس کثرت کے ساتھ امانتیں رکھواتے تھے۔اور اگر مرحومہ کو کبھی کسی سے قرض لینے کی ضرورت پیش آتی تھی تو وہ نہ صرف قطعاً کوئی تامل نہیں کرتا تھا۔بلکہ خوشی اور شوق کے ساتھ پیش کر دیتا تھا۔حاجتمندوں کو قرض دینے میں بھی مرحومہ بے حد فراخ دل تھیں۔بلکہ اگر اپنے پاس نہیں ہوتا تھا تو کسی دوسرے سے لے کر دے دیتی تھیں۔مجھے انہوں نے بعض اوقات ایسے رنگ میں روپے کے انتظام کے متعلق کہا کہ میرے دل میں درد پیدا ہونے لگا کہ انہیں کتنی سخت اور فوری ضرورت در پیش ہے مگر بات کھلنے پر معلوم ہوا کہ وہ کسی دوسرے حاجتمند کی ضرورت پر بے چین ہو کر اس کے واسطے سفارش کر رہی ہیں۔دوکانداروں کے ساتھ لین دین بھی نہایت صاف تھا اور پائی پائی کا حساب لکھ کر وعدہ پر ادا کر دیتی تھیں۔اب بھی اگر کسی کا کوئی روپیہ مرحومہ کے ذمہ نکلتا ہوتو وہ حضرت خلیفہ اصیح ایدہ اللہ کو اطلاع دے کر اپنا روپیہ وصول کر لے کیونکہ مرحومہ کی روح عالم بالا میں ایسے سفلی بوجھوں سے آزاد رہنی چاہیئے۔آخری بیماری میرے نوٹ ابھی بہت باقی ہیں اور مضمون پہلے ہی اخبار کی حدود سے زیادہ لمبا ہو گیا ہے۔اس لئے میں بقیہ باتوں کو چھوڑ کر صرف مرحومہ کی آخری بیماری اور وفات کے متعلق ایک مختصر بیان پر اپنے اس مضمون کوختم کرتا ہوں۔یہ ذکر او پر کیا جاچکاہے کہ ہمشیرہ مرحومہ کی صحت عموما اچھی نہیں رہتی تھی۔گو وہ درمیان میں بظاہر بالکل اچھی نظر آنے لگتی تھیں۔جب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی گذشته سال ماه اکتوبر میں ڈلہوزی سے واپس آکر پھر نومبر کے تیسرے ہفتہ کے آخر میں دو دن کے لئے