مضامین بشیر (جلد 1) — Page 580
مضامین بشیر ۵۸۰ کی شدت کی وجہ سے میں طاہر کو اکیلا چھوڑ کر درمیان میں پھر واپس لاہور نہ آ جاؤں۔کسی قدر رقت کے ساتھ کہا کہ آپ میری خاطر امتحان کے آخر تک وہیں طاہر کے پاس ٹھہر ہیں۔چنانچہ میں قادیان چلا آیا اور جہاں تک خدا نے توفیق دی طاہر کا خیال رکھتا رہا مگر یہ ایک خدا کا فضل تھا کہ ان کی وفات اتوار کو ہوئی جو کہ امتحان کے لحاظ سے رخصت کا دن تھا۔اور اس طرح میں عزیز طاہر احمد کو گھبراہٹ میں ڈالنے کے بغیر ہمشیرہ مرحومہ کے آخری لمحات میں چند گھنٹہ کے لئے پھر لاہور پہنچ سکا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی اور میری دونوں کی خواہش کو بیک وقت پورا کر دیا۔لڑکیوں کے متعلق ہمشیرہ مرحومہ کو ہمیشہ یہ خیال رہتا تھا کہ وہ جلد تر ان کی زندگی میں ہی بیا ہی جائیں تا کہ یہ نازک بوجھ ان کے سر سے اتر جائے۔مشیت الہی کے ماتحت ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی۔مگر یہ عجیب قدرت الہی ہے کہ گو وہ ہر بیماری میں ہماری ہمشیرگان وغیرہ کے ساتھ اس کا ذکر زیادہ تکرار کے ساتھ کیا کرتی تھیں مگر اپنی آخری بیماری کے ایام میں مرحومہ نے اس ذکر کو بالکل ترک کر دیا تھا گویا کہ وہ راضی برضا الہی ہو کر اس معاملہ کو خدا پر چھوڑ چکی ہیں۔بہر حال سیدہ موصوفہ اپنی اولاد کے حق میں ایک بہترین ماں تھیں اور ان کی دینی اور دنیوی بہبودی کے لئے بے حد کوشاں رہتی تھیں۔عزیزوں اور رشتہ داروں سے خاص محبت اولاد کے علاوہ ہمشیرہ مرحومہ کو دوسرے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ بھی خاص محبت تھی اور وہ سب کو بڑے شوق سے ملتیں اور بڑے اخلاق کے ساتھ پیش آتی تھیں۔عزیزوں کی بیماری میں بھی بے حد ہمدردی کا ثبوت دیتی تھیں اور ایسے موقعوں پر اپنے آرام کو گو یا بالکل بھول جاتی تھیں۔چنانچہ دو سال کا عرصہ ہوا جب میری لڑکی عزیزہ امتہ السلام بیگم سخت بیمار ہوئی تو ہمشیرہ مرحومہ پورے تین دن رات قریباً مسلسل اس کے سرہانے کے ساتھ لگی بیٹھی رہیں اور تیمارداری کے نازک فرائض کو اس محبت اور اخلاص کے ساتھ ادا کیا کہ میرے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی تھی۔یہ ان ایام کی بات ہے جبکہ سیدہ مرحومہ کے بھائی عزیزم مکرم سید محمود اللہ شاہ صاحب افریقہ سے تازہ تازہ رخصت لے کر کئی سال کے وقفہ کے بعد قادیان پہنچے تھے اور مرحومہ کے یہ وہ بھائی ہیں جن کے ساتھ مرحومہ کو اپنے سب بھائی بہنوں میں زیادہ بلکہ اخص درجہ محبت تھی مگر با وجود اس کے انہوں نے امتہ السلام بیگم کی خدمت میں تین دن رات ایک کر دئے۔اور اس وقت تک ساتھ نہیں چھوڑا جب تک کہ وہ خطرہ سے باہر نہیں ہو گئی۔یہی سلوک ان کا دوسرے عزیزوں کے ساتھ تھا۔اور حضرت صاحب کی بیماری میں تو ان کی خدمت اور جاں نثاری انتہا ء کو