مضامین بشیر (جلد 1) — Page 582
مضامین بشیر ۵۸۲ ڈلہوزی تشریف لے گئے تو اس وقت بھی ہمشیرہ مرحومہ بظاہر بالکل اچھی تھیں۔چنانچہ حضور نے موسم سرما میں غرباء کی تقسیم کے لئے جو لحاف تیار کروانے تھے ، ان کا کام سیدہ مرحومہ کے سپر د کر کے ڈلہوزی تشریف لے گئے اور تاکید کر گئے کہ دو دن کے اندر اندر ہماری واپسی تک سارے لحاف تیار ہو جائیں تا کہ دیر ہو جانے کی وجہ سے غریبوں کو تکلیف نہ ہو۔میں تو حضور کے ساتھ ڈلہوزی چلا گیا تھا مگر واپس آکر سُنا کہ ہمشیرہ مرحومہ نے یہ دو دن سارا وقت لگا کر اور بہت سی کا رکنات کو اپنے ساتھ رکھ کر یہ لحاف تیار کئے اور بے حد کوفت اٹھائی۔ڈلہوزی کے اس دوروزہ قیام میں میں نے ہمشیرہ مرحومہ کے متعلق ایک خواب دیکھی جس میں جیسا کہ بعد کے حالات نے ظاہر کیا صریح طور پر ان کے نا کام اپریشن اور اس کے بعد وفات کی طرف اشارہ تھا۔مگر اس وقت اس طرف قطعاً خیال نہیں گیا۔حتی کہ بارہ سال کا عرصہ ہوا، خود حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی سیدہ مرحومہ کے متعلق ایک صریح خواب دیکھی تھی کہ ان کا اپریشن ہوا ہے۔اور اس کے بعد ہارٹ فیل کر گیا ہے۔مگر تصرف الہی کے ماتحت اپریشن سے پہلے حضور کے ذہن سے بھی یہ خواب بالکل اتری رہی۔بہر حال جب ہم ۲۲ نومبر ۱۹۴۳ء کو ڈلہوزی سے واپس آئے تو اس وقت بھی ہمشیرہ مرحومہ بظاہر بالکل اچھی تھیں۔مگر اس کے چوبیس گھنٹے کے اندراندریعنی ۲۳ نومبر ۱۹۴۳ء کی شام کو بستر میں لیٹ گئیں اور ایسی لیٹیں کہ پھر نہ اٹھیں۔اس کے بعد کے حالات مختصر طور پر الفضل میں شائع ہوتے رہے ہیں اور اس جگہ اُن کے اعادہ کی ضرورت نہیں البتہ بعض زائد با تیں قابل ذکر ہیں۔بیماری کے ابتدائی ایام میں خود حضرت خلیفہ امسیح ایدہ اللہ گردہ کی شدید تکلیف سے بیمار ہو گئے اور کئی دن تک سیدہ مرحومہ کی تیمارداری کے لئے تشریف نہیں لا سکے اور ہمشیرہ کی تکلیف دن بدن زیادہ ہوتی گئی۔انہی ایام میں ایک دن مکرمی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے جو ہمارے خاندانی معالج ہیں۔اور ہمیشہ نہایت محبت اور اخلاص سے علاج فرماتے ہیں۔( اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے) مجھے رات کے دو بجے کے قریب پیغام بھیجا کہ سیدہ ام طاہر صاحبہ کو زیادہ تکلیف ہے تم بھی اوپر آ جاؤ۔میں گیا تو وہ درد اور کرب کی انتہائی تکلیف میں مبتلا تھیں۔اور سخت بے چینی تھی۔مجھے دیکھ کر رقت کے ساتھ فرمانے لگیں میرے بھائی آپ میرے واسطے دعا نہیں کرتے ؟ یہ ان کے کہنے کا مخصوص انداز تھا تا کہ دعا کی زیادہ تحریک ہو۔ورنہ وہ خوب جانتی تھیں کہ میں اُن کے لئے ہمیشہ خاص طور پر دعا کرتا ہوں۔اُس وقت میں نے یہ تجویز پیش کی کہ کیا میں ماموں جان ( محترمی ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب جنہوں نے آخری ایام میں اپنی بیماری اور کمزوری کے باوجود مرحومہ کا اس محبت اور شفقت کے ساتھ علاج کیا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی - فجزاه الله احسن الجزاء ) کو بلالوں مگر انہوں نے رات کے وقت ماموں جان کی تکلیف _