مضامین بشیر (جلد 1) — Page 534
مضامین بشیر ۵۳۴ ظاہری حالات کے ماتحت ہمیں ان کی طرف سے گویا مایوسی تھی۔خدائی رحمت کی تقدیر نے انہیں آ پکڑا اور اب وہ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پہلو میں مدفون ہیں کیونکہ بیعت کے ساتھ ہی انہوں نے وصیت کی توفیق بھی پائی تھی۔خلافت حقہ کی تائید میں زور دار مضامین لیکن ابھی ایک خاص مرحلہ باقی تھا۔اگر مولوی صاحب موصوف جیسا کہ ان کی عمر اور حالت کا تقاضہ تھا بیعت کے جلد بعد ہی فوت ہو جاتے تو عوام الناس کو غلط نہی میں ڈالنے کے لیئے غیر مبائعین اصحاب کو اس اعتراض کا موقع تھا کہ پیر فرتوت تھے کہ قادیان جا کر وہاں کے ماحول سے متاثر ہو گئے اور لوگوں کے کہنے کہانے سے بلا سوچے سمجھے بیعت کر لی یا کسی کے ناواجب اثر کے نیچے آگئے وغیرہ ذالک۔اس اعتراض کے سد باب کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مولوی صاحب کو بیعت کے بعد پورے تین سال تک زندہ رکھا اور نہ صرف زندہ رکھا بلکہ ان کے قلم سے خلافت حقہ کی تائید میں بڑے زور دار مضامین لکھوائے اور ان کے ذریعہ سے کئی لوگوں کو بیعت خلافت کی توفیق عطا کی اور یہ سلسلہ ان کے پشاور تشریف لے جانے کے بعد تک جاری رہا۔جس سے ثابت ہو گیا کہ ان کی بیعت کسی خارجی اثر کے ماتحت نہیں تھی بلکہ علی وجہ البصیرت تھی اور انہوں نے غیر مبایعین کے عقائد اور طریق کو غلط پا کر اور خلافت ثانیہ کو حق بجانب یقین کر کے بیعت کی تھی۔خدا تعالیٰ کے فضل کا غیر معمولی کرشمہ اور جب یہ سب کچھ ہو چکا تو اللہ تعالیٰ اپنی ازلی تقدیر کے ماتحت انہیں مقبرہ بہشتی کے لئے واپس قادیان لے آیا اور ہمیں ان کے آخری ایام کی خدمت کی توفیق اور سعادت عطا کی اور پھر مزید فضل الہی یہ ہوا کہ ان کی وفات بھی ایسے وقت میں ہوئی جبکہ حضرت خلیفہ اصیح ایدہ اللہ قادیان میں موجود تھے۔حالانکہ اس سے قبل اور اس کے بعد ہر دو زمانہ میں آپ باہر سفر پر رہے اور صرف درمیان میں چند دن کے لئے قادیان میں قیام کیا اور پھر نماز جنازہ میں بھی غیر معمولی کثرت کے ساتھ دوستوں نے شرکت کی۔یہ سب باتیں ہمارے قادر و متصرف رحیم و کریم خدا کے فضل و رحمت کا غیر معمولی کرشمہ ہیں والفضل بيد الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم غیر مبایعین کے ایک معزز رکن کا خواب جن اصحاب کی طرف سے مجھے اس موقع پر ہمدردی اور تعزیت کے خطوط موصول ہوئے۔ان